شراب کی 2 بوتلوں پر قائم کیس میں معروف اداکارہ عتیقہ اوڈھو کو 9 سال 2 ماہ اور 14 روز بعد بری کر دیا گیا ہے۔
یہ مقدمہ سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار چوہدری کے سوموٹو حکم پر 7 جون 2011 میں تھانہ ایئرپورٹ پولیس نے درج کیا تھا، عتیقہ اوڈھو نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 9 سال کے دوران ایک درجن جج صاحبان تبدیل ہوئے اور 200 سے زیادہ پیشیاں ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک تاریخی اور علامتی فیصلہ ہے کیونکہ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔
عتیقہ اوڈھو نے کہا کہ یہ کیس عدالتی نظام کے ذریعے انصاف کے حصول کی کوشش کرنے والے ہر پاکستانی کا کیس ہے۔ میں نے ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا ہے اور آج انہی عدالتوں نے مجھے انصاف دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد میرے لیے مشکل اور اذیت سے بھرا ہوا وقت ختم ہوا، میں نے جن حالات کا سامنا کیا وہ سب کے سامنے ہے، اس میں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔
معروف اداکارہ کا کہنا تھا کہ یہ کیس تاریخ میں اس لیے بھی یاد رکھا جائے گا کہ ایک جھوٹے کیس میں ایک درجن سے زائد جج تبدیل ہوئے اور 200 سے زیادہ پیشیاں بھگتنا پڑیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ زیادتی تھی کہ مجھے اتنا طویل عرصہ اذیت سے گزرنا پڑا لیکن جن جج صاحب نے فیصلہ دیا ان کی تعریف بنتی ہے، یہ بھی وہی عدالت ہے۔