جرمنی میں اسکول کھولنے کے 2 ہفتے کے اندر دارالحکومت برلن میں کم از کم 41 اسکولوں میں طلبہ اور اساتذہ کے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
جرمن میڈیا کے مطابق سینکڑوں طلبہ اور اساتذہ کو قرنطینہ میں بھیج دیا گیا ہے، کورونا سے متاثر ہونے والوں میں ایلیمنٹری اور ہائی اسکولز دونوں شامل ہیں۔ برلن میں کل 825 اسکولز موجود ہیں۔
یاد رہے کہ کئی سائنسدانوں نے اسکول کھولنے کے بعد وہاں کورونا کے کلسٹر پیدا ہونے اور پھر وبا کے گھروں اور شہروں تک پھیلنے کے خطرات سے خبردار کیا تھا تاہم جرمنی میں اس موضوع پر زیادہ بحث نہیں ہوئی۔
جرمنی میں تعلیم کا شعبہ مرکزی حکومت کے تحت کام نہیں کرتا بلکہ ملک کی 14 ریاستیں اس کی نگران ہیں، یہی وجہ ہے کہ کورونا سے متعلق قواعد پورے ملک میں یکساں طور پر نافذ نہیں ہیں، کئی ریاستوں میں تعلیمی اداروں میں گرمی کی چھٹیاں ہیں جبکہ دیگر میں 2 ہفتوں سے اسکولز کھول دیے گئے ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد برلن میں سب سے پہلے اسکولز کھول دیے گئے تھے، طلبہ کے لیے کلاس میں داخل ہونے تک اور وقفے کے دوران ماسک پہننا لازمی تھا البتہ وہ کلاس روم میں پہنچ کر اسے اتار سکتے تھے۔ ان قواعد پر کئی ماہرین نے شدید تنقید کی تھی اور کلاس میں ماسک اتارنے سے کورونا سے متاثر ہونے کے خدشات کا اظہار کیا تھا۔
نارتھ رائن ویسٹ فیلیا جرمنی کی سب سے زیادہ آبادی رکھنے والی ریاست ہے، یہاں برلن کے بعد تعلیمی ادارے کھول دیے گئے تھے اور 25 لاکھ طلبہ اسکول پہنچ گئے ہیں۔ ابھی تک اس ریاست کے تعلیمی اداروں میں کورونا کے پھیلاؤ کے حتمی اعدادوشمار سامنے نہیں آئے تاہم کئی اسکول کو وائرس پھیلنے کے باعث بند کر دیا گیا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو جرمنی نے کورونا کیسز میں اضافے کے باوجود اسکول بند نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے، وائرس سے متاثرہ اساتذہ اور طلبہ کو قرنطینہ میں بھیجنے کی ہدایت کی گئی ہے مگر اسکولوں کو بند کرنے سے احتراز کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ اسٹیڈیم میں کھلاڑیوں اور تماشائیوں کو واپس لانے یا کنسرٹس میں بڑے مجمع کو اکٹھا ہونے کی اجازت دینے سے زیادہ اسکولوں کو کھلے رکھنا ان کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔
یاد رہے کہ جرمنی میں جولائی سے کورونا کیسز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اس کی ایک اہم وجہ بیرون ملک سے واپس آنے والے جرمن مسافر اور دوسرا سبب لوگوں کی سماجی تقاریب میں بڑے پیمانے پر شرکت ہے۔
جرمن چانسلر انجیلا مارکل نے جمعرات کو اس بات پر شدید تنقید کی ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں مختلف قسم کے قواعد موجود ہیں، ان کا کہنا تھا کہ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ برلن میں ایک کام کرنے کی اجازت ہے مگر اسی پر بویریا میں پابندی عائد ہے۔
جرمنی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1426 نئے کورونا کیسز سامنے آئے ہیں، ملک بھر میں اب تک 2 لاکھ 30 ہزار افراد وبا سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 9260 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔