ترکی کے صدر طیب اردوان نے ایک اور قدیم چرچ کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنے کا حکم دیا ہے، اسے چرچ فتح استنبول کے وقت مسجد کی صورت دی گئی تھی اور بعد ازاں اسے میوزیم بنا دیا گیا تھا۔
1000 سالہ قدیم کاریے میوزیم عیسائیوں کے لیے ایک اہم کلیسا تھا جسے فتح استنبول کے 50 برس بعد مسجد میں تبدیل کر دیا گیا تھا، 1945 میں ترکی کی حکومت نے اسے عجائب گھر بنا دیا تھا۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد ترک قیادت نے سیکولرازم کی ترویج کے حوالے سے جو اقدامات اٹھائے تھے، ان میں سے ایک ایسے تاریخی چرچ کو میوزیم بنانا تھا جنہیں ترکوں کی فتح کے بعد مساجد میں بدل دی گیا تھا۔
1958 میں امریکہ کے فنون لطیفہ سے متعلق تاریخ دانوں نے اس میں چرچ کے حقیقی موزیک کی بحالی میں مدد کی تھی اور اسے عوام کے لیے بطور عجائب گھر کھول دیا گیا۔
ترکی کی انتظامی عدلیہ نے نومبر میں میوزیم کو مسجد میں تبدیل کرنے کی منظوری دی تھی۔
اے ایف پی کے ایک رپورٹر کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ میوزیم عوام کے لیے کھلا ہے۔
یاد رہے کہ ترک حکومت نے تاریخی آیا صوفیہ چرچ کو بھی میوزیم سے مسجد میں بدلنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس میں ایک طویل عرصہ بعد پہلی بار نماز جمعہ بھی ادا کی گئی جس میں طیب اردوان نے شرکت کی تھی۔