جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دھمکی آمیز تقریر کرنے والے ملزم مولوی آغا افتخار الدین مرزا کے خلاف توہین عدالت کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔
عدالت نے حکم دیا ہے کہ ملزم کے خلاف تمام دستاویز اور ڈیجیٹل شواہد ریکارڈ پر لائے جائیں۔
سماعت کے موقع پر وکیل استغاثہ نے آغا افتخار الدین مرزا کیخلاف تین گواہان کی فہرست عدالت میں پیش کی۔
جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ پہلے تمام شواہد ریکارڈ پر لائیں، میرے نزدیک تو ملزم نے عدالت کی واضح توہین کی، میرے نزدیک تو اس کیس میں فردجرم عائد کرنے کی ضرورت نہیں، اس کے باوجود ملزم کو فئیر ٹرائل کا حق دیا گیا، ملزم کو بے گناہی ثابت کرنے کا پورا موقع دیا جا رہا ہے۔
سپریم کورٹ نے استغاثہ سے آغا افتخار الدین مرزا کے خلاف شواہد کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت 10 محرم کے بعد تک ملتوی کر دی۔