• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
ہفتہ, اپریل 18, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

حکومتی معاملات سمجھ سے بالاتر ہیں، چیف جسٹس

by sohail
ستمبر 1, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ ملک میں پیٹرول کا بڑا اسکینڈل آیا، ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر آ گئی اور 10 روز تک ملک مکمل بند رہا۔ جب اٹارنی جنرل نے کہا کہ پیٹرول کے معاملے پر کمیشن بنایا ہے تو چیف جسٹس نے کہا کہ کمیشن کا کیا فائدہ جس نے کام کرنا تھا وہ کر گیا، حکومتی معاملات سمجھ سے باہر ہیں۔

سندھ میں غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ پر از خود نوٹس پر چیف جسٹس کی سربراہی میں سماعت کرنے والے دو رکنی بینچ کے رکن جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ سانپ نکل گیا ہے اور آپ لکیر پیٹ رہے ہیں، بینچ نے کے الیکٹرک اور پاور ڈویژن پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ 2015 سے کے الیکٹرک نے ایک روپیہ حکومت کو نہیں دیا، کے الیکٹرک عوام کوبجلی اور حکومت کو پیسے نہیں دیتی۔

انہوں نے کہا کہ خواہ مخواہ کہا جاتا ہے کراچی معشیت کا 70 فیصد دیتا ہے کراچی کے پاس دینے کے لیے اب کچھ نہیں، کراچی میں اربوں روپے جاری ہوئے، پر خرچ کچھ نہیں ہوا، کراچی والوں کے بیرون ملک اکاؤنٹ فعال ہوچکے ہیں، کراچی میں مال بنانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، پہلے ہی اربوں روپے بیرون ملک جا چکے ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت کی آخر رٹ کہاں ہے؟ 4 سال میئر رہنے والے نے ایک نالی تک نہیں بنائی، کراچی پہلے 60 سے ستر فیصد ریونیو دیتا تھا اب اس کے پاس  کچھ نہیں، شہر کی دیکھ بھال کا ذمہ حکومت کا ہے، ہمیں علم ہے کہ کراچی کے کرتے دھرتے کچھ نہیں کرینگے، شہریوں کے منہ سے نوالا بھی چھین لیا جاتا ہے۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب کراچی میں حکومت بے بس نظر آرہی ہے، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ کراچی کے شہری اس وقت کے الیکٹرک کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ پاور ڈویژن کا جواب واپس لیتا ہوں، نیا جواب جمع کرائیں گے، کے الیکٹرک کے پاس پیداواری صلاحیت نہیں تو پھر بجلی پیداوار کا خصوصی اختیار ختم ہو جاتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آج کے الیکٹرک کے خصوصی اختیار کا معاملہ ختم ہی کر دیتے ہیں۔

وکیل کے الیکٹرک نے عدالت کو بتایا کہ کے الیکٹرک شہر میں 2900 میگا واٹ بجلی سپلائی کر رہا ہے، تاہم اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب کے الیکٹرک نے معاہدہ کیا تھا تب بھی شہر کی صورتحال ایسی تھی۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ کے الیکٹرک والے اسٹے آرڈر لے کر 5 سال تک بیٹھے رہتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے جس دن سے نوٹس لیا ہے، شہر کی حالت مزید خراب ہو گئی ہے، شہر سے باقی سارا جوس نکال لیا ہے جو چند قطرے بچے ہیں وہ بھی نکال رہے ہیں، پاور ڈویژن والے لکیر کے فقیر ہیں جواب تیار کرتے وقت اپنا دماغ تک استعمال نہیں کیا، تمام حکومتی ادرے کے الیکٹرک کی معاونت کے لیے ہیں، پاور ڈویژن کی رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنائیں گے، سیکریٹری پاور ڈویژن آپ اپنی سمت درست کریں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ کے پاس اختیارات ہیں اس کا استعمال کریں، زبانی کلامی کچھ نہیں ہوگا ادارے مل بیٹھ کر کوئی حل نکالیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس وقت عوام کے فائدے کے لیے حکومت کے پاس کچھ نہیں ہے، کراچی کا ایسا کوئی علاقہ نہیں جہاں شہری سکون سے رہ سکیں، حکومت کو بے بس کیا جارہا ہے کیونکہ اس کے پاس اہلیت نہیں پاور سیکٹر کے پاس کام کرنے کا دم نہیں۔

 عدالت نے نیپرا قانون کے سیکشن 26 پر عملدرآمد کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قانون کے تحت نیپرا کو عوامی سماعت کرکے فیصلے کا اختیار ہے۔

عدالت نے کہا کہ نیپرا قانون کے مطابق کے الیکٹرک کے کراچی میں بجلی سپلائی کے خصوصی اختیار کا فیصلہ کرے۔

عدالت نے 10 دن میں نیپرا ٹربیونل کے ممبران تعینات کرنے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ سیکشن 26 کے اختیار کے استعمال پر کوئی عدالت حکم امتناع نہیں دے سکے گی، عدالت نے کے الیکٹرک کیخلاف نیپرا اقدامات پر جاری شدہ حکم امتناع بھی خارج کرتے ہوئے  نیپرا سے کارروائی پر رپورٹ طلب کر تے ہوئے سماعت چار ہفتوں تک ملتوی کردی۔

Tags: سپریم کورٹ آف پاکستانکے الیکٹرک
sohail

sohail

Next Post

نواز شریف کو 10 ستمبر کو عدالت پیش ہونے کی ہدایت

ماضی کی وبائیں اور کورونا کی دوسری لہر کا خدشہ

ایمازون کو ڈرونز کے ذریعے سامان کی گھروں تک ترسیل کی اجازت مل گئی

فروغ نسیم کا اختیارات سے تجاوز، وزیروں کا احتجاج

مالٹا کی مقتول صحافی بجلی کے منصوبوں میں کرپشن سے پردہ اٹھانے والی تھیں، تحقیقات میں انکشاف

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In