• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 8, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home کالم

اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کا المیہ

by sohail
ستمبر 5, 2020
in کالم
1
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ مائیکرو بیالوجی کو ٹیچنگ اسٹنٹ کی ضرورت ہے۔ اس پوسٹ پر منتخب ہونے والے امیدواروں کو ایم فل یا پی ایچ ڈی کی ڈگری کا حامل ہونا چاہیے مگر تنخواہ صرف 15 ہزار روپے ماہانہ بتائی گئی ہے۔

پاکستان کی حکومت نے مزدور کی کم ازکم اجرت تنخواہ 17 ہزار روپے مقرر کی ہے۔ ایک غیر ہنر مند دہاڑی دار مزدور بھی 8 سو روپے روزانہ اجرت حاصل کرتا ہے۔

ایک قائد اعظم یونیورسٹی ہی نہیں سب یونیورسٹیوں کا یہی حال ہے۔

پرائیویٹ سکولوں میں بھی یہ رواج عام ہے، ایک مشہور زمانہ اسکول چین کے طالب علم نے بتایا کہ 2 ماہ کی فیس 70 ہزار روپے ہے جبکہ سکول ٹیچر کی ماہانہ تنخواہ 20 ہزار روپے ہے۔ جس معاشرے میں اسکول ٹیچر اور اسکول کے باہر تعینات سیکورٹی گارڈ کی تنخواہ برابر ہو وہاں تعلیمی معیار کی ترجیحات کیا ہوں گی؟ اسی اسکول کے مالک کی وزیراعظم عمران خان کو کروڑوں روپے کورونا امدادی فنڈ میں عطیہ کرنے کی تصویر بھی ملاحظہ کی ہوئی ہے۔

جبکہ کورونا کے دوران یہ اسکول طلبہ فیسوں میں رعایت نہ دینے کی غرض سے عدالت رجوع کرتے بھی دکھائی دیے۔

پبلک سیکٹر یونیورسٹیاں طلبہ سے لاکھوں روپے فیس وصول کرتی ہیں۔ لیکن وزیٹنگ اور کنٹریکٹ پر ٹیچرز بھرتی کرکے ان کا معاشی استحصال کرتی ہیں۔ آخر اس معاشی استحصال کی وجہ کیا ہے اور وجوان اسے قبول کرنے پر کیوں مجبور ہوتے ہیں۔؟

اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ عملی زندگی میں قدم رکھتے ہوئے ان نوجوانوں کی پہلی ترجیح گھر والوں پر مزید بوجھ لادنے سے گریز کرنا ہوتا ہے۔

والدین پہلے ہی ان کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کی دوڑ میں مقروض ہوچکے ہوتے ہیں۔ بیروزگاری کاٹنے کے دوران عمر میں اضافہ ہو رہا ہوتا ہے اور معقول ملازمت کا امکان بھی مسدود نظر آتا ہے۔

کم قابلیت، مطلوبہ تجربے اور اہلیت سے محروم ریٹائرڈ سول اور عسکری بیوروکریسی کے بااثر لوگ بغیر کسی میرٹ اور شفاف عمل کے آسانی سے اہم عہدوں پر فائز دکھائی دیتے ہیں۔

ویسے تو یہ روش ہر حکومت کے دور میں برقرار دکھائی دیتی ہے۔ لیکن نوجوانوں کو نئے پاکستان کے خواب دکھا کر اور ان کی حمایت سے برسر اقتدار آنے والی جماعت تحریک انصاف کی حکومت کا عزم یہی دکھائی دیتا ہے کہ  ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی بیروزگار نہ رہے۔ نوجوان جائیں بھاڑ میں۔ رہے نوجوان تو وہ سوشل میڈیا پر عمران خان، مریم نواز اور بلاول کے جان نثار متوالے اور جیالے بن کر اپنی اپنی سیاسی قیادت کا دفاع کر رہے ہیں اور اپنے مسائل کو اجاگر کرنے میں دلچسپی ہی نہیں رکھتے۔

sohail

sohail

Next Post

چینی وزیردفاع نے بھارت کو سرحدی کشیدگی کا ذمہ دار قرار دے دیا

'جب طیارہ مریض بچے کی جان بچانے پہنچا اور رن وے کی روشنیاں بند تھیں'

برطانیہ میں چاقو گھونپنے کے واقعات میں ایک شخص ہلاک کئی زخمی

2018 کے دوران تنخواہ دار طبقے، کاروباری افراد، کمپنیوں کا انکم ٹیکس ریکارڈ سامنے آ گیا

رؤف کلاسرا پر جھوٹے الزامات، عدالت نے مبشر زیدی، اسد طور پر بھاری جرمانہ عائد کر دیا

Comments 1

  1. Fayaz Ahmed says:
    6 سال ago

    نوجوانوں کوسیاسی اور مذہبی جنونیت اور حیوانیت کیلے مخصوص رکھا جاتا ہے۔۔۔۔بہت اچھا مضمون ہے

    جواب دیں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In