برطانیہ کے علاقے برمنگھم کے سٹی سنٹر میں چاقو گھونپنے کے متعدد واقعات میں ایک شخص ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں، پولیس مشکوک افراد کی تلاش میں مصروف ہے۔
چیف سپرنٹنڈنٹ سٹیو گراہم کا کہنا ہے کہ ابھی تک ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جو دہشت گردی کی طرف اشارہ کرتے ہوں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ غیرمنظم حملے تھے کیونکہ جن لوگوں پر چاقو کے حملے کیے گئے ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں تھا۔
بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ بظاہر یوں لگتا ہے کہ لوگوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان لڑائی چھڑ گئی جس کے بعد چاقو نکل آئے اور لوگ زخمی ہونے لگے۔
ایک عینی شاہد کیرا کیورن کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کولیگز کے ساتھ شراب نوشی کر رہی تھی جب انہوں نے دیکھا کہ لوگ ایک دوسرے کو مکے مار رہے ہیں، ان میں خواتین، مرد، بوڑھے اور نوجوان سب شامل تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ 3 گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس جھگڑے میں چاقو گھونپنے، کاروں کے ٹکراؤ اور کئی دوسرے واقعات پیش آئے، یہ میرے لیے ایک بہت بڑا شاک تھا۔