وفاقی کابینہ نے مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت کے آخری سال کی ٹیکس ڈائرکٹری شائع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق 2018 کے دوران 11 لاکھ 30 ہزار تنخواہ دار افراد نے 129 ارب روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا جو ایک شخص کی ایک لاکھ 14 ہزار روپے کی اوسط بنتی ہے۔
14 لاکھ 10 ہزار کاروباری افراد نے 185 ارب روپے کا ٹیکس ادا کیا جو فی شخص ایک لاکھ 31 ہزار کی اوسط بنتی ہے۔
2018 میں تنخواہ دار اور کاروباری طبقے کے درمیان ٹیکس کی شرح تقریباً برابر ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یا تو کاروباری افراد کی کمائی نہیں ہو رہی یا پھر وہ ٹیکس چھپا رہے ہیں۔
34000 کے قریب کمپنیاں ایسی تھیں جنہوں نے مالی سال 2017-18 کے دوران 70 لاکھ سے انکم ٹیکس ادا کیا۔
ایکسپریس ٹریبون میں شائع ہونے والی شہباز رانا کی رپورٹ کے مطابق کابینہ نے اراکین پارلیمنٹ سمیت تمام ٹیکس ادا کرنے والے افراد کا 2018 کے مالی سال کا ریکارڈ شائع کرنے کی منظوری بھی دی۔
پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنے دور حکومت کے پہلے سال کی ٹیکس ڈائرکٹری ابھی تک شائع نہیں کی اور نہ ہی 2019-20 کے دوران انکم ٹیکس ریٹرنز کو حتمی شکل دی ہے جس کی وجہ سے نئے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے میں تاخیر ہو رہی ہے۔
کابینہ کے لیے تیار کیے گئے تجزیے کے مطابق 2018 کے مالی سال کے دوران تقریباً ساڑھے 26 لاکھ افراد اور کمپنیوں نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرائے، ان میں 11 لاکھ 30 ہزار تنخواہ دار افراد، 14 لاکھ سے زائد دیگر افراد، صرف 43 ہزار 191 کمپنیاں اور 62 ہزار 950 ایسوسی ایشنز شامل تھیں۔
ان تمام نے مجموعی طور پر 887 ارب روپے کا ٹیکس ادا کیا تو اس برس جمع ہونے والی ٹیکس کا صرف چوتھائی حصہ ہے، 43 ہزار 191 کمپنیوں نے 497 ارب روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا، ان میں 91 فیصد ایسی کمپنیاں ہیں جنہوں نے 50 لاکھ روپے سے کم انکم ٹیکس ادا کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یا ان کے نفع میں کمی واقع ہوئی یا انہوں نے ٹیکس چوری کی تھی۔
ریکارڈ کے مطابق 889 کمپنیوں نے 10 سے 15 لاکھ روپوں کے درمیان انکم ٹیکس ادا کیا، 1339 نے 30 لاکھ سے کم، 884 نے 50 لاکھ روپے تک انکم ٹیکس ادا کیا۔
ملک بھر میں صرف 3359 کمپنیاں ایسی تھیں جنہوں نے 70 لاکھ روپے سے زائد سالانہ انکم ٹیکس حکومت کو دیا۔
پنجاب سے سب سے زیادہ ٹیکس گوشوارے جمع کرائے گئے جن کی تعداد 13 لاکھ 60 ہزار تھی لیکن سب سے زیادہ ٹیکس سندھ نے جمع کرایا۔
سندھ سے 6 لاکھ 32 ہزار 583 گوشوارے جمع کرائے گئے اور انہوں نے انکم ٹیکس کی مد میں 349 ارب روپے ادا کیے۔