بھارتی فوج نے چین کی پیپلزلبریشن آرمی سے رابطہ کیا ہے اور دریافت کیا ہے کہ سرحدی علاقے سے غائب ہونے والے 5 بھارتی ان کی تحویل میں تو نہیں ہیں؟
بھارتی فوج کے ترجمان لیفٹنٹ جنرل ہرش وردھان پانڈے کا کہنا ہے کہ ہم نے ہاٹ لائن پر رابطہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ کچھ افراد سرحد عبور کر کے چینی علاقے میں چلے گئے ہیں، ہم شکر گزار ہوں گے اگر آپ انہیں ہمارے حوالے کر دیں۔
انہوں نے کہا کہ اس علاقے کے جنگلوں اور پہاڑیوں میں سرحد کا نشان موجود نہیں ہے اس لیے لوگ ادھر ادھر گھومتے پھرتے رہتے ہیں، ہو سکتا ہے وہ سرحد کی دوسری جانب چلے گئے ہوں جو کہ معمول کی بات ہے۔
چین کے دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انہیں اس حوالے سے صورتحال کا علم نہیں ہے۔
بھارت کے یونین منسٹر کرن رجی جو نے کہا ہے کہ فوج نے ہاٹ لائن پر پیپلزلبریشن آرمی سے رابطہ کیا ہے اور ان پانچ افراد کی واپسی کا کہا ہے جو بظاہر لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غائب ہو گئے تھے۔
ان افراد کا تعلق ارنوچل پردیش کی ریاست سے تھا جسے چین تبت کا حصہ قرار دیتا ہے۔ غائب ہونے والے افراد میں سے ایک کے بھائی کا کہنا ہے کہ وہ بھارتی فوج کے لیے پورٹر کے طور پر کام کرتا تھا۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں تبت سے تعلق رکھنے والی بھارت کی کمانڈو یونٹ کا اس وقت انکشاف ہوا تھا جب ایک بارودی سرنگ پھٹنے سے ایک اہلکار ہلاک اور متعدد شدید زخمی ہو گئے تھے۔
اس سے قبل سوشل میڈیا پر لاپتہ ہونے والے 5 بھارتیوں کی تصاویر گردش کرتی رہی تھیں جن کے متعلق شبہ کیا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق بھارتی فوج کے ایلیٹ گروپ سے تھا اور وہ چینی علاقے میں داخل ہونے کے بعد غائب ہو گئے تھے۔