سعودی عدالت نے معروف صحافی جمال خشوگی کے 8 قاتلوں کو سزا سنا دی ہے، 5 افراد کو 20 سال قید جبکہ 3 کو 7 سے 12 برس قید کی سزا سنائی ہے۔
جمال خشوگی 2 اکتوبر 2018 کو استنبول میں سعودی سفارتخانے میں گئے اور واپس نہیں آئے تھے، بعد ازاں ترک حکام نے انکشاف کیا تھا کہ انہیں سفارتخانے میں ہی قتل کر دیا گیا تھا۔
مقتول صحافی جمال خشوگی کے بیٹوں نے اپنے والد کے قاتلوں کو معاف کر دیا
سعد الجبری کون ہیں اور شہزادہ محمد بن سلمان کو ان کی تلاش کیوں ہے؟
سعودی حکومت نے شروع میں خشوگی کے قتل کی تردید کی تھی لیکن عالمی سطح پر احتجاج کے بعد ایجنٹس کی ٹیم پر اس کا الزام عائد کر دیا تھا۔
ان کی لاش کبھی نہیں مل پائی، کہا جاتا ہے کہ انہیں قتل کرنے کے بعد ان کے جسم کے ٹکڑے کر دیے گئے تھے۔
59 سالہ جمال خشوگی امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں کالم تحریر کیا کرتے تھے اور سعودی حکومت کے سخت نقاد سمجھے جاتے تھے۔ ان کے قتل کے حوالے سے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پر بھی انگلیاں اٹھائی جاتی رہیں۔
مختلف مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مطابق سعودی ولی عہد قتل کے اس منصوبے سے آگاہ تھے، اس واقعہ کے بعد ترکی اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔
مارچ میں ترکی کے پراسیکیوٹرز نے خشوگی کے قتل میں 20 سعودی شہریوں پر فرد جرم عائد کی تھی، جن میں سعودی ولی عہد کے 2 سابق ساتھی بھی شامل تھے۔