• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
منگل, مئی 19, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

شعیب دستگیر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، انعام غنی نئے آئی پنجاب پولیس تعینات

by sohail
ستمبر 8, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
3
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

وفاقی حکومت نے شعیب دستگیر کو آئی جی پنجاب کے عہدے سے ہٹا کر سیکرٹری نارکوٹکس ڈویژن تعینات کر دیا ہے جبکہ انعام غنی کو صوبے کی پولیس کا سربراہ تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

لاہور پولیس کے سربراہ عمر شیخ اور پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس شعیب دستگیر کے درمیان تنازع بڑھنے کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

شعیب دستگیر کا کہنا تھا کہ سی سی پی او لاہور کی تعیناتی کے وقت ان سے مشاورت نہیں کی گئی۔

سی سی پی او کی تعیناتی کے معاملہ پر آئی جی پنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات میں اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا، عثمان بزدار نے تحفظات پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔عمر شیخ کی تعیناتی پر آئی جی پنجاب وزیراعظم سے بھی ملے تھے۔

ذرائع کے مطابق انہوں نے پنجاب حکومت کو بتا دیا تھا کہ اگر عمر شیخ کو ان کے عہدے پر برقرار رہنے دیا گیا تو وہ بطور آئی جی اپنے فرائض سرانجام نہیں دے سکیں گے۔

عمر شیخ نے مبینہ طور پر آئی جی پنجاب پولیس شعیب دستگیر کے خلاف گفتگو کی تھی جس کے باعث تنازعہ کھڑا ہوا۔

‏وزیراعلیٰ پنجاب کی گفتگو

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے صحافیوں سےغیررسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ ایک ضابطے اور قانون کے تحت چلتا ہے، ‏نئےآئی جی کی اولین ترجیح صوبے میں امن وامان کا قیام ہونا چاہیے۔‎‎

‏ان کا کہنا تھا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی آفیسرکو تعینات کریں اورکوئی آ کر کہے کہ اس کو نہ لگائیں، چیف ایگزیکٹو کی مرضی کے بغیر صوبے کا کوئی کام نہیں ہوتا۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ چیف ایگزیکٹو اور صوبے کے ساتھ مشاورت سے معاملات طے ہوتے ہیں، پہلے جن آئی جیز کے ساتھ کام کیا، ان کے ساتھ اچھے تعلقات رہے۔

2 سال میں 5 آئی جی تبدیل

صوبہ پنجاب میں 2 سال کے مختصر عرصے میں 5 آئی جی تبدیل ہو چکے ہیں۔ سب سے پہلے کلیم امام آئے جو 13 جون سے 11 ستمبر 2018 تک کے صرف 3 ماہ نکال سکے۔

انہیں تبدیل کر کے محمد طاہر کو لایا گیا مگر انہیں بھی ایک ماہ بعد 15 اکتوبر 2018 میں تبدیل کر دیا گیا۔

محمد طاہر کی رخصتی کے بعد قرعی فال امجد جاوید سلیمی کے نام نکلا جو 15 اکتوبر 2018 سے 17 اپریل 2019 تک آئی جی پنجاب کے عہدے پر فائز رہے۔

انہیں ہٹا کر کیپٹن (ر) عارف نواز خان کو لایا گیا جو 7 ماہ تک اس عہدے پر فائز رہے، انہیں 28 نومبر 2019 کو تبدیل کر دیا گیا۔

شعیب دستگیر 28 نومبر 2019 کو آئی جی پنجاب تعینات ہوئے تھے اور ایک بار پھر وہی داستان دہرائی گئی اور انہیں ہٹا کر انعام غنی کو چارج دے دیا گیا ہے۔

Tags: آئی جی پنجابشعیب دستگیرعمر شیخلاہور پولیس کے سربراہ
sohail

sohail

Next Post

من پسند تعیناتیوں کے خلاف وزارت خارجہ کے افسران عدالت پہنچ گئے

قتل کی دھمکیاں، کنگنا رناوت کو بھارتی چیف جسٹس کے برابر سیکیورٹی مل گئی

ایس ای سی پی کے لاپتہ افسر ساجد گوندل کا معاملہ، 3 رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم

سائنسدانوں کی ایک کروڑ ستاروں میں ترقی یافتہ خلائی مخلوق کی تلاش ناکام

ایس ای سی پی کے لاپتہ افسر ساجد گوندل بازیاب

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In