امریکی ریاست الاسکا کے ایک دور دراز گاؤں میں ہونے والا ایک واقعہ عالمی خبر بن گیا جس میں گاؤں کے باسیوں نے مل کر ایک بچے کی جان بچا لی۔
اس گاؤں میں ایک بچہ شدید بیمار ہو گیا جس کی جان بچانے کے لیے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم ہوائی جہاز کے ذریعے بھیجی گئی تاہم جب طیارہ اترنے کے لیے ایئر پورٹ پہنچا تو رن وے کی تمام روشنیاں گل تھیں۔
اس مختصر گاؤں کی آبادی 70 افراد پر مشتمل ہے، اس خطرناک اور اعصاب شکن صورتحال میں سب نے اپنی گاڑیاں نکالیں اور ائیرپورٹ پرپہنچ کر چاروں طرف ہیڈ لائنز روشن کر کے رن وے کو منور کر دیا۔
سب افراد کو اکٹھا کرنے والی گاؤں کی رہائشی ایڈا نیلسن کا کہنا ہے کہ میں بہت نروس اور پریشان تھی کیونکہ کسی کے بچے کی جان کا معاملہ تھا، مجھے تیزی سے سوچنا تھا کہ کس طرح دیگر افراد کو اکٹھا کر کے مدد کر سکتی ہوں، میں یہی سوچ رہی تھی کہ اگر معاملہ میرے بیٹے کا ہوتا تو میں کیا کرتی۔
20 منٹ میں 20 گاڑیاں رن وے پر پہنچ گئیں جن کے ڈرائیورز کی عمریں 8 سے 70 سال کے درمیان تھیں۔ ان کی روشنیوں کے باعث طیارہ رن وے پر اترنے کے قابل ہو سکا، مریض کو اٹھایا اور روانہ ہو گیا، اس دوران گاڑیوں نے مسلسل روشنیاں کھلی رکھیں۔
یہ واقعہ رات کے ساڑھے 11 بجے پیش آیا، ایڈا نیلسن کا کہنا ہے کہ اس وقت عموماً کوئی طیارہ نہیں آتا اس لیے طیارے کی آواز سن کر مجھے فوراً احساس ہو گیا کہ کوئی گڑبڑ ہے، میں نے رن وے کی طرف دیکھا تو اس کی روشنیاں بجھی ہوئی تھیں۔
وہ فوراً اپنی گاڑی پر سوار ہو کر رن وے پر پہنچیں جہاں ایک مقامی پائلٹ نے بتایا کہ روشنیاں نہیں جل پا رہیں، انہوں نے فوراً مقامی افراد کو بلایا، نیلسن نے اس دوران 32 کالز کیں۔
اس طرح تمام افراد نے مل کر طیارے کو اترنے میں مدد دی اور مریض بچے کی زندگی بچا لی گئی۔