سابق وزیراعظم نواز شریف نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے پر نظرثانی اپیل دائر کردی ہے جس میں انہیں 10 ستمبر تک سرینڈر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
اپنی درخواست میں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ اس وقت پاکستان آ کر سرینڈر کرنا ممکن نہیں، انہوں نے میڈیکل رپورٹس بھی ساتھ منسلک کی ہیں۔
نواز شریف کو 10 ستمبر کو عدالت پیش ہونے کی ہدایت
ان کے وکلا خواجہ حارث اور منور اقبال دگل نے یہ درخواست دائر کی جس میں کہا گیا ہے کہ بیان حلفی میں طے ہوا تھا کہ حکومت پہلے میری صحت کا پتا کرے گی لیکن وفاقی حکومت نے اس حوالے سے کوئی کوشش نہیں کی۔
نواز شریف نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس میری صحت کے متعلق مستند معلومات موجود نہیں ہیں، ڈاکٹروں نے بھی میرے سفر کرنے کے قابل ہونے کا کوئی سرٹیفکیٹ نہیں دیا۔
انہوں نے درخواست کی کہ مجاز نمائندوں کے ذریعے اپیلوں کی سماعت جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کی مہلت دی تھی جو کل ختم ہو رہی ہے۔