امریکی ایئرفورس کی حالیہ فوجی مشقوں میں شرکت کرنے والے روبوٹ ڈاگز کی تصاویر نے سائنس فکشن فلموں کی یاد تازہ کر دی۔
گذشتہ ہفتے ہونے والی ان مشقوں میں پہلی بار ہائی ٹیک تجربات کو بھی شامل کیا گیا ہے جس سے مستقبل میں ہونے والی جنگوں کی جھلکیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔

مشقوں کے دوران ایئرفورس سی 30 طیاروں سے پہلے روبوٹ ڈاگز کو باہر بھیجا گیا تاکہ وہ گردونواح میں کسی قسم کے خطرے کی نشاندہی کر سکیں اور اگر ماحول سازگار ہو تو فوجی طیارے میں اتر سکیں۔
یہ روبوٹس امریکہ کے ایڈوانسڈ بیٹل مینیجمنٹ سسٹم (اے بی ایم ایس) کا حصہ ہیں جس کا مقصد مستقبل میں فوج کو ہائی ٹیک ہتھیاروں سے لیس کرنا ہے۔

اے بی ایم ایس کا بنیادی مقصد مصنوعی ذہانت اور تیزی سے ڈیٹا کا تجزیہ کرنا اور خلا میں موجود امریکی اثاثوں اور زمین پر کسی قسم کے میزائل حملے کی وقت سے پہلے نشاندہی کرنا ہے۔
ایئرفورس میں اسسٹنٹ سیکرٹری ول روپر کا کہنا ہے کہ مستقبل کے میدان جنگ میں فوجیوں کو نینو سیکنڈز میں تجزیہ کیے گئے ڈیٹا پر انحصار کر کے لڑنا ہو گا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اگلی جنریشن کی جنگوں میں ڈیٹا کی اہمیت جیٹ طیاروں اور مصنوعی سیاروں سے کسی طرح کم نہیں ہو گی۔

31 اگست سے 3 ستمبر کے درمیان ہونے والی اے بی ایم ایس جنگی مشقوں میں امریکی فوج کے ہر شعبے نے شرکت کی اور اس کے لیے ملک کے 30 مقامات منتخب کیے گئے۔
امریکی فوج کے ماسٹر سرجنٹ لی بوسٹن کا کہنا تھا کہ روبوٹ ڈاگ علاقے کا تصویری جائزہ لیتے ہیں جبکہ اس دوران فوجی اپنے جہاز کے قریب رہتے ہیں۔
ان روبوٹ ڈاگز کو 60 یو جی وی ایس کا نام دیا گیا ہے، انہیں فلاڈلفیا کی ایک کمپنی گھوسٹ روبوٹکس نے تیار کیا ہے۔
چار ٹانگوں پر چلنے والے روبوٹس میں کسی بھی قسم کی سرزمین اور ماحول میں اپنا کام کرنے کی صلاحیت موجود ہے، ان پر سینسرز اور راڈارز لگے ہوئے ہیں جو اردگرد کا مکمل جائزہ لے سکتے ہیں۔