ایسٹرازینکا کمپنی نے ایک رضاکار کے بیمار ہونے کے باعث کورونا ویکسین کی آزمائش روک دی ہے جس کے بعد کمپنی کے شیئرز میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی اور ایسٹرازینکا مشترکہ طور پر کورونا ویکسین تیار کر رہے ہیں جس کے ٹرائل مختلف مراحل سے گزر رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے اس ویکسین کی تیاری کو دنیا میں سب سے آگے قرار دیا تھا۔
ٹرائل کے دوران ایک رضاکار کے بیمار ہو جانے کے بعد تمام مراحل کی آزمائش عارضی طور پر معطل کر دی ہے جس کے بعد ایک خودمختار کمیٹی ڈیٹا کا جائزہ لے گی۔
برطانوی سیکرٹری صحت میٹ ہینکاک کا کہنا ہے کہ ویکسین کی آزمائش کے وقت ایسا واقعہ ایک چیلنج ہے، آکسفورڈ کی ویکسین کی تیاری کے دوران پہلی بار ایسا ہوا ہے۔
آزمائش روک دینے کے باعث کمپنی کے لندن میں شیئرز کی قیمت 2 فیصد گر گئی ہے جبکہ اس کے انڈین یونٹ کے شیئرز کی قیمت 12 فیصد کم ہو گئی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی چیف سائنٹسٹ نے اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا ویکسین کے حوالے سے تحفظ سب سے زیادہ اہم ہے۔
امریکہ کے وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے کہا ہے کہ ویکسین کی تیاری روکنے کا فیصلہ اگرچہ بدقسمتی کی بات ہے مگر یہ نئی بات نہیں ہے کیونکہ ویکسین تیار کرتے وقت حفاظتی تدابیر کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اس معاملے پر مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔