اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کی بحالی کا معاہدہ کرانے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کر دیا گیا ہے۔
فاکس نیوز کے مطابق انہیں ناروے کے رکن پارلیمنٹ اور نیٹو کی پارلیمانی اسمبلی کے چیئرمین کرسچن ٹائبرنگ نے اس انعام کے لیے نامزد کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے مختلف اقوام کے درمیان امن قائم کرنے کی بہت کوششیں کی ہیں اور وہ نوبل انعام کے لیے نامزد کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ میرٹ رکھتے ہیں۔
نوبل کمیٹی کے نام اپنے خط میں انہوں نے لکھا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے دو اقوام کے درمیان تعلقات قائم کرانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے، چونکہ اس بات کا امکان ہے کہ مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک بھی یو اے ای کے نقش قدم پر چلیں گے، اس لیے یہ معاہدہ گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔
ٹائبرنگ نے خط میں مسئلہ کشمیر اور شمالی و جنوبی کوریا کے درمیان تنازع کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے تنازعوں میں ملوث اقوام کے درمیان روابط کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے فروری 2019 میں خود بھی سابق صدر اوبامہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں بھی نوبل انعام دیا گیا جبکہ انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ کس لیے دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ وہ صرف 15 سیکنڈ کے لیے وہاں رہے تھے اور انہیں نوبل انعام دے دیا گیا تھا، جہاں تک میرا تعلق ہے تو غالباً مجھے یہ انعام کبھی نہیں دیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق امریکی حکومت کے کہنے پر جاپان کے وزیراعظم نے بھی صدر ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کیا ہے۔
نوبل کی سرکاری ویب سائیٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2020 کے امن انعام کے لیے اب تک 318 امیدوار سامنے آئے تھے۔ 2021 کا نوبل انعام جیتنے والے کے نام کا اگلے برس اکتوبر میں اعلان کیا جائے گا۔