موٹروے پر خاتون سے ہونے والی زیادتی کے واقعہ پر پنجاب کے نئے آئی جی انعام غنی نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس اس گاؤں تک پہنچ چکی ہے جس سے ملزمان کا تعلق ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پولیس کی ٹیمیں واقعہ کی تفتیش کر رہی ہیں، جلد ملزمان گرفتار ہو جائیں گے۔
جیو نیوز کے پروگرام "جیو پاکستان” میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون نے ملزمان کی عمر اور شناخت کے متعلق اہم معلومات دی ہیں جبکہ ایک اہم سراغ مل چکا ہے جو ملزمان تک پہنچا دے گا تاہم میڈیا پر تفصیلات نہیں بتائی جا سکتیں۔
انعام غنی نے کہا کہ پورے علاقے کی ووٹر لسٹ اور نادرا کے ریکارڈ سے مدد لی جا رہی ہے جبکہ جیوفینسنگ بھی کرا لی گئی ہے جس کے نتائج کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمار ہدف ملزمان کو گرفتار کرنا ہے، اس سے متاثرین کو سپورٹ ملے گی۔
کیا واقعہ پیش آیا؟
لاہور کے علاقے گجر پورہ میں ایک خاتون سے زیادتی کی گئی جو موٹروے پر کار کا پٹرول ختم ہونے کی وجہ سے رکی ہوئی تھیں، ان کے دو بچے بھی ساتھ تھے۔
کار کا پٹرول ختم ہونے پر وہ اپنے شوہر کا انتظار کر رہی تھیں، موٹروے پولیس کو فون کیا تو مبینہ طور پر انہیں یہی جواب ملا کہ کوئی ایمرجنسی ڈیوٹی پر نہیں ہے۔
اس دوران دو افراد نے گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور ان کے بچوں کو باہر نکالا اور قریبی جھاڑیوں میں لے جا کر بچوں کے سامنے خاتون سے زیادتی کی اور ان سے طلائی زیور اور نقدی چھین کر فرار ہو گئے۔