• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 22, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

نوازشریف برطانیہ اور ڈاکٹر امریکہ میں، کیا زبانی علاج ہو رہا ہے؟ اسلام آباد ہائیکورٹ

by sohail
ستمبر 10, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی اپیل کی سماعت کے دوران استفسار کیا ہے کہ نواز شریف برطانیہ میں ہیں اور ڈاکٹرز امریکہ میں ہیں، کیا ان کا زبانی علاج ہو رہا ہے؟

دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے پوچھا کہ کیا نواز شریف اسپتال داخل ہیں جس پر خواجہ حارث نے نفی میں جواب دیا، اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اگر کوئی اسپتال داخل ہو تو پھر الگ بات ہوتی ہے۔ گزشتہ 6، 7 ماہ میں نواز شریف کسی اسپتال میں داخل نہیں ہوئے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ میں چاہتا ہوں آپ میری اپیل سن لیں جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ پہلے ہم مفرور ڈیکلیئر کریں گے اور پھر اپیل سنیں گے۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ پرویز مشرف کیس میں عدالت کہہ چکی ہے کہ مفرور کو سرنڈر کرنے سے قبل نہیں سنا جا سکتا، نسیم الرحمان کیس میں سپریم کورٹ نے بھی یہی کہا ہے کہ ایسے شخص کو کوئی ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔

سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا کسی اور عدالت کی جانب سے نواز شریف کو اشتہاری قرار دے دیا گیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو نواز شریف کی عدالتوں میں زیر التوا درخواستوں پر کیا اثر ہوگا؟

اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ اس سے عدالتی کارروائی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کے خلاف احتساب عدالتوں میں متعدد کیس چل رہے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کا کوئی بھی حکم ان کیسز کو متاثر کرے گا۔

دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے وفاقی حکومت کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس نامکمل ہیں، پنجاب حکومت ان کی ضمانت مسترد کر چکی ہے۔

عدالت نے ان سے دریافت کیا کہ کیا حکومت نے نوازشریف کی صحت کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی؟

طارق کھوکھر نے جواب میں بتایا کہ چونکہ وہ اسپتال داخل نہیں ہیں اس لیے ہم نے معلوم نہیں کیا۔ اس پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ یہ بات واضح طور پر طے ہوئی تھی کہ ہائی کمیشن کے نمائندے کے ذریعے ان کی صحت کا جائزہ لیا جائے گا۔

عدالت نے واضح کیا کہ نواز شریف نے سرینڈر نہیں کیا، ہم انہیں کوئی استثنیٰ نہیں دے رہے صرف قانونی نکات پر دلائل دینے کے لیے خواجہ حارث کو وقت دے رہے ہیں۔

خواجہ حارث نے کہا کہ اگر وہ قانونی نکات پر معاونت نہ کرسکے تو سرنڈر پر نظرثانی کی درخواست واپس لے لیں گے۔

بعد ازاں عدالت نے نوازشریف کو العزیزیہ ریفرنس میں مفرور قرار دینے سے قبل قانونی نکات پر معاونت کا فیصلہ کرتے ہوئے 15 ستمبر کو دلائل طلب کر لیے۔

Tags: احتساب عدالتاسلام آباد ہائیکورٹالعزیزیہ ریفرنسخواجہ حارثنواز شریف
sohail

sohail

Next Post

فیس بک نے یونیورسٹی طلبہ کے لیے کیمپس نام کی پراڈکٹ لانچ کر دی

امریکی ریاستوں کیلی فورنیا، واشنگٹن اور اوریگون کے جنگلات میں آگ سے تباہی جاری

بحریہ ٹاؤن کا 460 ارب روپے جمع کرانے کے معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع

احتساب عدالت نے سلمان شہباز کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے

کورونا سے نمٹنے میں کامیابی پر عالمی ادارہ صحت کی پاکستان کی تعریف

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In