اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی اپیل کی سماعت کے دوران استفسار کیا ہے کہ نواز شریف برطانیہ میں ہیں اور ڈاکٹرز امریکہ میں ہیں، کیا ان کا زبانی علاج ہو رہا ہے؟
دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے پوچھا کہ کیا نواز شریف اسپتال داخل ہیں جس پر خواجہ حارث نے نفی میں جواب دیا، اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اگر کوئی اسپتال داخل ہو تو پھر الگ بات ہوتی ہے۔ گزشتہ 6، 7 ماہ میں نواز شریف کسی اسپتال میں داخل نہیں ہوئے۔
خواجہ حارث نے کہا کہ میں چاہتا ہوں آپ میری اپیل سن لیں جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ پہلے ہم مفرور ڈیکلیئر کریں گے اور پھر اپیل سنیں گے۔
جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ پرویز مشرف کیس میں عدالت کہہ چکی ہے کہ مفرور کو سرنڈر کرنے سے قبل نہیں سنا جا سکتا، نسیم الرحمان کیس میں سپریم کورٹ نے بھی یہی کہا ہے کہ ایسے شخص کو کوئی ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔
سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا کسی اور عدالت کی جانب سے نواز شریف کو اشتہاری قرار دے دیا گیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو نواز شریف کی عدالتوں میں زیر التوا درخواستوں پر کیا اثر ہوگا؟
اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ اس سے عدالتی کارروائی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کے خلاف احتساب عدالتوں میں متعدد کیس چل رہے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کا کوئی بھی حکم ان کیسز کو متاثر کرے گا۔
دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے وفاقی حکومت کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس نامکمل ہیں، پنجاب حکومت ان کی ضمانت مسترد کر چکی ہے۔
عدالت نے ان سے دریافت کیا کہ کیا حکومت نے نوازشریف کی صحت کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی؟
طارق کھوکھر نے جواب میں بتایا کہ چونکہ وہ اسپتال داخل نہیں ہیں اس لیے ہم نے معلوم نہیں کیا۔ اس پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ یہ بات واضح طور پر طے ہوئی تھی کہ ہائی کمیشن کے نمائندے کے ذریعے ان کی صحت کا جائزہ لیا جائے گا۔
عدالت نے واضح کیا کہ نواز شریف نے سرینڈر نہیں کیا، ہم انہیں کوئی استثنیٰ نہیں دے رہے صرف قانونی نکات پر دلائل دینے کے لیے خواجہ حارث کو وقت دے رہے ہیں۔
خواجہ حارث نے کہا کہ اگر وہ قانونی نکات پر معاونت نہ کرسکے تو سرنڈر پر نظرثانی کی درخواست واپس لے لیں گے۔
بعد ازاں عدالت نے نوازشریف کو العزیزیہ ریفرنس میں مفرور قرار دینے سے قبل قانونی نکات پر معاونت کا فیصلہ کرتے ہوئے 15 ستمبر کو دلائل طلب کر لیے۔