فیس بک نے کیمپس کے نام سے ایک نئی پراڈکٹ شروع کی ہے جو اس کی مین ایپ کا حصہ ہو گی اور جس کا مقصد کالج سٹوڈنٹس کو ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ رکھنے کی سہولت فراہم کرنا ہے۔
اس کے ذریعے طلبہ کے لیے اپنے کیمپ کی خبریں اور گروپس کے علاوہ چیٹ رومز اور اہم تقریبات کے متعلق معلومات کی سہولت موجود ہو گی۔
کیمپس پر رسائی فیس بک کی ایپ سے ہی ہو گی، طلبہ کو اپنے ادارے کا فراہم کردہ ای میل ایڈریس اور تعلیمی سال بتانا ہو گا۔ ایپ میں داخل ہونے کے بعد وہ فیس بک کے پروفائل کے علاوہ کیمپس کے لیے الگ سے پروفائل بنا سکیں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے مضامین، کلاسز، آبائی شہر وغیرہ کو ایڈ یا ریموو کر سکیں گے۔
طلبہ اپنے متعلق جتنی زیادہ معلومات فراہم کریں گے اتنا ہی وہ ایسے کلاس فیلوز کو تلاش کر سکیں گے جن کے ساتھ ان کی دلچسپیاں مشترک ہوں گی۔
کیمپس کے پائلٹ پراجیکٹ کا آغاز امریکہ کی 30 یونیورسٹیوں سے کیا گیا ہے جن میں جان ہاپکنز، نارتھ ویسٹرن، یونیورسٹی آف لوزویل اور ورجینیا ٹیک شامل ہیں۔
اس وقت تک ایک یونیورسٹی کے طلبہ دوسری یونیورسٹیوں کے طلبہ کے ساتھ کیمپس کے آئی ڈی سے رابطہ نہیں کر سکیں گے، وہ صرف اپنے ادارے کے ساتھیوں کے کیمپس پروفائل دیکھ سکیں گے اور ان کے ساتھ رابطہ کر سکیں گے۔
اگر ایک طالب علم نے کسی کو فیس بک کے مین پروفائل سے بلاک کیا ہوا ہے تو وہ اسے کیمپس پر بھی نہیں دیکھ سکے گا۔ اسی طرح اگر کسی نے اپنے مین پروفائل سے فیس بک کے قواعد کی خلاف ورزی کی ہو گی تو وہ اس سیکشن کا حصہ بھی نہیں بن سکے گا۔
یاد رہے کہ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے اس پلیٹ فارم کا آغاز یونیورسٹی کے طلبہ کے آپس میں رابطے کے لیے کیا تھا، اس لیے سوشل میڈیا ماہرین کا کہنا ہے کہ فیس بک اپنی اصل کی جانب لوٹ رہی ہے۔