بحریہ ٹاؤن کراچی عملدرآمد کیس میں 460 ارب روپے جمع کرانے کے معاملہ پر بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ نے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔
بحریہ ٹاؤن نے ملیر زمین لیز پر دینے کی اجازت کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سندھ حکومت کو ہدایت کی جائے کہ وہ بحریہ ٹاؤن کو ملیر زمین لیز پر دینے کی اجازت دے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ جمع کرائے گئے 57 ارب 34 کروڑ 54 لاکھ 90 ہزار 293 روپے کی زمین لیز پر دینے کی اجازت دی جائے۔
بحریہ ٹاؤن نے موقف اختیار کیا کہ زمین لیز پر نہ دینے سے خریداروں کے حقوق متاثر ہورہے ہیں، بحریہ ٹاون کراچی نے کل 460 ارب روپے جمع کرانے ہیں، مزید اقساط کی رقم بھی جمع کرائی جائے گی۔
سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کو 460 ارب کی رقم سات سال میں جمع کرانے کا حکم دے رکھا ہے۔
یاد رہے کہ مارچ 2019 میں سپریم کورٹ نے ملیر کراچی میں زمین حاصل کرنے کے معاملے پر بحریہ ٹاؤن کی 460 ارب روپے ادا کرنے کی پیشکش قبول کرتے ہوئے نیب کو کارروائی سے روک دیا تھا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق بحریہ ٹاؤن نے اگست 2019 تک 25 ارب روپے جمع کرانے تھے، اس کے بعد ہر ماہ سوا 2 ارب سپریم کورٹ میں جمع کرانے کا حکم دیا گیا تھا۔
عدالت نے فیصلے میں کہا تھا کہ اگر بحریہ ٹاؤن 2 اقساط جمع کرانے میں ناکام رہی تو اسے ڈیفالٹر قرار دے دیا جائے گا۔