احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ ریفرنس میں شہباز شریف سمیت دیگر ملزمان کے خلاف تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے جس میں سلیمان شہباز کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بذریعہ وزرات خارجہ جاری کر دیے گئے ہیں۔
احتساب عدالت کے ایڈمن جج جواد الحسن نے 4 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کیا۔
عدالت نے نیب کو حکم دیا ہے کہ وہ وزرات خارجہ سے سلمان شہباز کی بیرون ملک میں رہنے کی وجہ معلوم کرے۔
احتساب عدالت نے فیصلے میں نصرت شہباز اور رابعہ عمران کو دوبارہ پیش ہونے کا حکم بھی دیا ہے اور کہا ہے کہ ان دونوں کے گھروں کے باہر سمن کے نوٹس آویزاں کیے جائیں۔
عدالت نے فیصلے میں تحریر کیا ہے کہ آئندہ سماعت پر حمزہ شہباز پیش ہوکر ریفرنس کی کاپیاں وصول کریں جبکہ دیگر شریک ملزمان علی احمد خان، سید محمد طاہر اور ہارون نقوی کے پیش نہ ہونے پر وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے ہیں۔
فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ شہباز شریف اور مسز جویریہ علی سمیت 9 ملزمان نے ریفرنس کی کاپیاں وصول کرلی ہیں، 14 ستمبر کو دیگر شریک ملزمان پیش ہو کر ریفرنس کی نقول وصول کریں۔
منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کی جانب سے یہ موقف اختیار کی گیا تھا کہ نیب نے بد نیتی کی بنیاد پر آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بنایا ہے اور موجودہ حکومت کے سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے نیب نے انکوائری شروع کی ہے۔
نیب کا مؤقف تھا کہ شریف فیملی کی منی لانڈرنگ اور بے نامی کمپنیاں’ پچپن کے‘ نامی دفتر سے چلتی تھیں۔
نیب کی تحقیقات کے مطابق 2008 سے 2018 تک شہباز شریف خاندان کے 4 افراد کے اثاثوں میں 450 فیصد جبکہ صرف سلمان شہباز کے اثاثوں میں 900 فیصد اضافہ ہوا۔
نیب کے مطابق 2009 میں شریف فیملی کے اثاثوں کی مالیت 68 کروڑ 33 لاکھ 37 ہزار تھی جبکہ 2018 تک یہ بڑھ کر 3 ارب 68 کروڑ 15 ہزار روپے تک پہنچ چکی تھی۔
نیب دستاویزات کے مطابق 2008 میں سلمان شہباز کے کل اثاثوں کی مالیت 28 کروڑ 24 لاکھ روپے تھی جو 900 فیصد اضافے کے بعد 2018 میں 2 ارب 34 کروڑ 96 لاکھ روپے ہو گئے ہیں۔