آل پاکستان ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن ( ایپرا) نے کہا ہے کہ کھانا ڈیلیور کرنے والی کمپنیوں نے کمیشن میں اضافے کے لیے آئے دن ریسٹورنٹس کو بلیک میل کرنا معمول بنا لیا ہے جس سے یہ کاروبار مشکلات کا شکار ہو گیا ہے۔
ایپرا کے سیکرٹری جنرل سلمان علیم نے نقار خانہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کمپنیوں کے لیے سرکاری سطح پر پالیسی وضع کی جائے تاکہ اس شعبے میں کسی قسم کی اجارہ داری کا خاتمہ کیا جا سکے۔
اپیرا نے جمعہ کو جاری ایک بیان میں وزیراعظم عمران خان کی توجہ ریسٹورنٹس انڈسٹری کو درپیش اہم مسئلے کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ ریسٹورنٹس انڈسڑی 10 سے 12 فیصد منافع پر کام کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اتنے کم نفع کے باوجود کھانا ڈیلیوری پر ایک بڑی کمپنی کو 18 فیصد کمیشن دیا جاتا ہے، اس کے باوجود یہ کمپنیاں آئے دن ریسٹورنٹس پر دباؤ بڑھا کراپنے کمیشن میں اضافے کی ڈیمانڈ کرتے ہیں۔
ایپرا کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں نے ریسٹورنٹس انڈسٹری کو دھمکی دی ہے کہ اگران کا ڈیلیوری کمیشن 25 فیصد سے 30 فیصد نہ کیا گیا تو وہ کھانے کی ڈیلیوری بند کردیں گے۔
ایپرا کا کہنا تھا کہ کھانا ڈیلیوری کرنے والی کمپنیاں ریسٹورنٹس کے ساتھ کیے جانے والے کسی معاہدے پر عمل نہیں کرتیں اور ریسٹورنٹس کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے رائیڈرز کو فارغ کردیں۔
اپنے بیان میں ایپرا نے کہا کہ اس وجہ سے بڑی تعداد میں رائیڈرز بے روزگار ہوگئے ہیں، اس کے علاوہ یہ کمپنیاں کسٹمرز کا ڈیٹا من پسند ریسٹورنٹس کو آرڈر منتقل کر دیتی ہیں جس کی وجہ سے ریسٹورنٹس مالکان تنگ آ گئے ہیں اور یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ان کمپنیوں کے ساتھ کام نہ کیا جائے۔
ایپرا نے وزیراعظم عمران خان سے درخواست کی کہ وہ فوڈ پانڈا سمیت کھانا ڈیلیوری سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے پالیسی مرتب کرنے کی ہدایت کریں جس کے تحت انہیں قواعد وضوابط کا پابند بنایا جاسکے بصورت دیگر ریسٹورنٹس انڈسٹری کے لیے کام کرنا انتہائی دشوار ہوجائے گا جو کورونا وبا کی وجہ سے پہلے ہی سنگین مالی بحران سے دوچار ہیں۔