امریکی شہری سنتھیارچی کا کہنا ہے کہ یہ ایک غلط فہمی ہے کہ میں اتنے سال خاموش رہی، میں نے رحمان ملک کے خلاف ایف بی آئی اور امریکی سفارتخانے کو مطلع کیا تھا۔
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے خلاف رحمان ملک نے درخواست دائر کی ہے، اس لیے میں اپنے وکیل کے ساتھ آئی ہوں۔
سنتھیا رچی نے کہا کہ میرے بارے میں یہ غلط فہمی بھی ہے کہ میں نے پاکستان میں آئی ایس پی آر یا کسی ادارے کے ساتھ کام کیا، یہ بات درست نہیں ہے تاہم جب بات آپ کے خاندان کی ہو تو اس کی حفاظت کے لیے اقدامات کرنے ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم انصاف لینے سپریم کورٹ آئے ہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے خواتین کا تحفظ یقینی بنائیں، خواتین کیساتھ زیادتی کرنے والوں کو قانون کے مطابق سخت سزا دینی چاہیے۔
اس موقع پر انہوں نے سب سے پہلے پاکستان اور پاکستان زندہ باد کا نعرہ بھی لگایا۔
سنتھیا رچی کے وکیل ایڈوکیٹ سیف الملوک نے کہا ہے کہ مرد، عورت یا خواجہ سرا سب کے حقوق یکساں ہیں، وکالت نامہ جمع کرانے آئے تھے، انتظار ہے کہ عدالت کب کیس کی سماعت کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ سے انصاف کی توقع ہے، ہراسگی کے معاملے میں ایف آئی آر درج ضرور ہونی چاہیے، رحمان ملک نے میرے موکل کیخلاف اپنے عہدے کا استعمال کیا۔
رحمان ملک کی درخواست
اس سے قبل سینیٹر رحمان ملک نے تھانہ آبپارہ میں سنتھیا رچی کیخلاف ایف آئی آر کے اندراج کے لیے درخواست دائر کی تھی اور مجموعہ ضابطہ فوجداری، تعزیرات پاکستان و قذف آرڈیننس کے تحت سنتھیا رچی کیخلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔