دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان پہلی بار براہ راست مذاکرات کا آغاز آج ہو رہا ہے۔
امریکی سیکرٹری سٹیٹ مائیک پومپیو نے بھی مذاکرات سے قبل قطر میں ہونے والی افتتاحی تقریب میں شرکت کی، نومبر میں ہونے والے امریکی انتخابات سے قبل ٹرمپ حکومت افغانستان میں امن لانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔
اس وقت تمام فریق امن کے خواہاں ہیں، امریکہ اور نیٹو کی فوجیں اس جنگ زدہ ملک سے نکلنا چاہتی ہیں جبکہ افغان حکومت اور طالبان جنگی میدان میں برتری کے ذریعے اپنی اپنی گفت و شنید کی قوت بڑھا رہے ہیں۔
آج کے مذاکرات میں جن بنیادی مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی ان میں مستقل جنگ بندی، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق اور ہزاروں طالبان جنگجوؤں اور وار لارڈز سے وفادار لڑاکوں سے اسلحہ واپس لینا شامل ہے۔
مستقل جنگ بندی افغان حکومت کی خواہش ہے کیونکہ طالبان کی مسلسل جنگی کارروائیوں کے باعث حکومت کی کمزوری نمایاں ہوتی ہے جبکہ نئے افغانستان میں خواتین اور اقلیتوں کے تحفظ کی بات طالبان کے ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے کی جا رہی ہے۔
مذاکرات میں آئین میں ترامیم اور حکومت میں مختلف دھڑوں کے حصے پر بھی بات ہو گی۔ اس کے علاوہ افغان پرچم اور افغانستان کے سرکاری نام جیسے معمولی مسائل بھی مذاکرات کا حصہ ہوں گے۔
مذاکرات کے لیے دوحہ پہنچنے والے افغان حکومت کے وفد میں 4 خواتین بھی شامل ہیں جو مستقبل کے کسی بھی فارمولے میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے بات کریں گی۔
خواتین کے حقوق کے حوالے سے اہم نکات میں کام کرنے کی آزادی، تعلیم اور سیاست میں کردار جیسے معاملات زیربحث آئیں گے۔ طالبان کے سابقہ دور حکومت میں خواتین کو ان تمام پہلوؤں سے محروم رکھا گیا تھا تاہم اب افغان معاشرہ تبدیل ہو چکا ہے اور یہ معاملات اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔
طالبان کے وفد میں کوئی خاتون شامل نہیں ہے، اس کی سربراہی طالبان کے چیف جسٹس عبدالحکیم کریں گے۔
افغانستان کے لیے امریکہ کی امن کوششوں میں زلمے خلیل زاد کا اہم کردار رہا ہے، انہوں نے جمعہ کو کہا تھا کہ ان مذاکرات کا آغاز ایک بڑا کارنامہ ہے مگر ابھی کسی معاہدے تک پہنچنے کی راہ میں کئی مسائل اور بڑے چیلنجز موجود ہیں۔