پولیس نے لاہور موٹروے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی کرنے والے دونوں ملزمان کا سراغ لگا لیا ہے۔
دونوں ملزمان کے ڈی این اے خاتون کے لباس سے حاصل کردہ ڈی این اے سے میچ کر گئے ہیں، ایک ملزم کا نام عابد علی اور دوسرے کا وقارالحسن ہے تاہم پولیس کے پہنچنے سے قبل وہ اپنے علاقے سے فرار ہو گئے۔
آئی جی پنجاب انعام غنی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ گزشتہ رات 12 بجے کنفرم ہوا کہ عابد علی کا ڈی این اے میچ کر گیا ہے جس کے بعد اس کے علاقے فورٹ عباس سے معلومات حاصل کی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ ملزم کے نام پر 4 موبائل سمز رجسٹرڈ تھیں جو وہ مختلف اوقات میں بند کر چکا تھا، تاہم پولیس نے قلعہ ستار شاہ میں اس کے گھر کا سراغ لگا کر چھاپہ مارا تو وہ اور اس کی بیوی کھیتوں سے فرار ہو گئے جبکہ گھر میں ایک بچی ملی ہے۔
آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ دوسرا ملزم وقارالحسن بھی اپنے علاقے سے فرار ہو چکا ہے تاہم جلد ہی ان دونوں کو گرفتار کر لیا جائے گا۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ متاثرہ خاتون کو بروقت مدد نہیں مل سکی جس کے باعث یہ سانحہ پیش آیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب
اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا کہ ملزموں کی گرفتاری میں مدد کرنے والوں کے لیے 25، 25 لاکھ انعام رکھا گیا ہے، ان کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے 72 گھنٹوں کے اندر ملزمان کا سراغ لگایا ہے۔ پولیس اور دیگر اداروں کو ہدایات کی ہیں کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میری متاثرہ خاتون سے بات ہوئی ہے، انہیں انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اس سے قبل وزیراعظم عمران خان کے مشیر شہباز گل نے بھی ایک ٹویٹ کے ذریعے ڈی این اے میچ کرنے کی تصدیق کی تھی۔
یاد رہے کہ 9 ستمبر کو لاہور کے علاقے گجرپورہ میں موٹروے پر ایک خاتون کی گاڑی پٹرول ختم ہونے کے باعث بند ہو گئی اور دو افراد نے گاڑی کے شیشے توڑ کر خاتون کے اس کے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا۔
پولیس کے پاس درج ایف آئی آر کے مطابق خاتون گاڑی روک کر اپنے شوہر کا انتظار کر رہی تھی، خاتون نے موٹروے پولیس کو بھی فون کیا مگر انہیں جواب دیا گیا کہ کوئی ایمرجنسی ڈیوٹی پر موجود نہیں ہے۔
اس دوران دو افراد گاڑی کے پاس پہنچے اور انہوں نے گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور بچوں پر تشدد کیا اور پھر انہیں قریبی جھاڑیوں میں لے گئے جہاں زیادتی کے بعد خاتون سے طلائی زیورات اور نقدی چھین کر فرار ہو گئے۔