چین کے اخبار گلوبل ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ چین میں داخل ہونے والے 5 بھارتی درحقیقت انٹیلیجنس ایجنٹس تھے جنہوں نے شکاریوں کا روپ دھارا ہوا تھا۔
اخبار کا کہنا ہے کہ چین کی لبریشن آرمی نے انہیں سرحد پار کرنے پر حراست میں لے لیا تھا تاہم اب انہیں رہا کر کے بھارتی حکام کے حوالے کر دیا ہے جہاں وہ 14 روز قرنطینہ میں رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : چین بھارت سرحد پر غائب ہونے والے 5 بھارتی کون تھے اور کیسے لاپتہ ہوئے؟
منگل کو یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ریاست اروناچل پردیش سے تعلق رکھنے والے 5 شہری لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے قریب شکار کھیلتے ہوئے غائب ہو گئے ہیں۔
بھارتی حکام کا کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر یہ افراد غلطی سے شمالی تبت کے قریب ایل اے سی عبور کر کے چینی علاقے میں داخل ہو گئے تھے جہاں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ بھارت کی جانب سے ان کے عام شہری ہونے پر خصوصاً زور دیا گیا۔
بھارتی فوج نے چین کی پیپلزلبریشن آرمی سے رابطہ کر کے درخواست کی تھی کہ ان افراد کے متعلق بتایا جائے اور اگر وہ حراست میں ہیں تو انہیں لوٹایا جائے۔
گلوبل ٹائمز نے بتایا ہے کہ ان لوگوں نے غلطی سے سرحد پار نہیں کی تھی بلکہ یہ جاسوسی کے لیے چینی میں داخل ہوئے تھے، اخبار کے مطابق اس سے قبل بھی بھارت جاسوسی کے لیے مختلف بھیس میں اہلکار بھیجتا رہتا ہے۔
ان افراد کے غائب ہونے کا وقت بھی وہی تھا جب 45 برسوں بعد مغربی ہمالیہ کے پہاڑوں میں اسلحہ استعمال کرنے کا واقعہ ہوا تھا جس کا الزام دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر عائد کیا تھا۔