پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے حمزہ شریف جیل میں کورونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں۔
ایک ٹویٹر کے ذریعے انہوں نے کہا کہ مشرف دور میں نیب مقدمات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے بعد حمزہ شہباز اب نیب نیازی گٹھ جوڑ کے سیاسی انتقام کا انتہائی جراتمندی و ثابت قدمی سے سامنا کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ حمزہ شہباز پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہیں اور جون 2019 سے نیب کی حراست میں ہیں، ان کے خلاف منی لانڈرنگ اور آمدنی سے زیادہ اثاثوں کے دو مقدمات کی تفتیش جاری ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب اور امور داخلہ مرزا شہزاد اکبر نے شہباز شریف کے ٹویٹ کے جواب میں کہا کہ حمزہ شہباز کسی سیاسی مقدمے میں نہیں بلکہ کرپشن کی وجہ سے جیل میں بند ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حمزہ شہباز پر اربوں کی منی لانڈرنگ، اپنی جماعت کے لوگوں اور سرکاری ٹھیکوں میں کمیشن لینے کا الزام ہے، ان کی ضمانت ہائی کورٹ نے مسترد کر دی ہے۔
مرزا شہزاد اکبر نے سوال پوچھا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ اپنے بھائی کی طرح انہیں بھی لندن بھیج دیا جائے؟ انہوں نے حمزہ شہباز کے لیے شفا کی دعا بھی کی۔
مریم نواز کا ردعمل
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت حمزہ شہباز کو ضروری میڈیکل سہولیات فراہم نہیں کر رہی۔
اپنے ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ حمزہ شہباز کو ایک سال سے زائد عرصے سے غیرمنصفانہ اور غیر قانونی طور پر جیل میں بند کیا ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اپنے سیاسی مخالفین کو غیرانسانی ماحول میں رکھ کر ان کی صحت کے ساتھ کھیل رہی ہے، میرا بھائی حمزہ شہباز اس ظلم کا تازہ شکار ہے جس کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے مگر اسے ضروری طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔