پولیس نے مری میں سیاحوں پر تشدد کرنے والے ہوٹل کے 3 ملازمین کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ مینیجر سمیت 10 افراد کو مقدمے میں نامزد کر لیا ہے۔
فیصل آباد سے آنے والی فیملی کے ساتھ ایک ریسٹورنٹ کے ملازمین نے تلخ کلامی کے بعد تشدد کیا تھا اور خواتین کو بھی زدوکوب کیا تھا۔ خاندان کے سربراہ نے تھانے شکایت کی جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر کے تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
ایف آئی آر میں ہوٹل کے مینیجر سمیت 10 افراد کو نامزد کیا گیا ہے، وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس کو کارروائی کی ہدایت کی تھی۔
انہوں نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے راولپنڈی کے کمشنر اور آر پی او سے رپورٹ طلب کر لی اور ہدایت کی کہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مری سمیت دیگر سیاحتی مقامات پر پولیس اپنا گشت بڑھا دے، ایسے واقعات برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
یاد رہے کہ مری میں سیاحوں کے واقعات کا ایک تسلسل ہے جس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر مری کے بائیکاٹ کی کامیاب مہم بھی چلی تھی اور لوگوں کی یہاں آمد میں کمی واقع ہوئی تھی۔
اس سے قبل مال روڈ پر ایک ہوٹل مینیجمنٹ نے خاتون سیاح اور ان کی فیملی کو جی پی او چوک میں تشدد کا نشانہ بنایا تھا، پولیس کے پاس جا کر شکایت کی گئی تو انہوں نے حدود کا بہانہ بنا کر درخواست لینے سے انکار کر دیا تھا۔
بعد ازاں وزیراعلیٰ پنجاب کے نوٹس لینے پر ایک شخص کو نامزد قرار دیا گیا تھا جبکہ 10 نامعلوم افراد کو بھی مقدمے میں شامل کیا گیا تھا۔