چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ حکومت ہوش کے ناخن لے اور محکمہ پولیس کی ساکھ بحال کرے۔
جوڈیشل اکیڈمی کے زیر اہتمام اوور سیز اور کمرشل عدالتوں کے جج صاحبان کے تربیتی پروگرام کے اختتامی سیشن سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس میں ہونے والے تبادلے اس بات کی علامت ہیں کہ اس محکمے میں کس قدر سیاسی مداخلت ہے۔ حکومت پولیس میں کسی بھی سیاسی شخص کی مداخلت کا راستہ روکے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ملک بھر میں پولیس میں سیاسی مداخلت عام ہوچکی ہے جس کے نتیجے میں عوام کی جان و مال محفوظ نہیں، امن و امان کا قیام حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس ضمن میں پولیس کا شفاف نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ معصوم مسافروں کو ہائے وے پر سنگین جرائم کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حالیہ واقعہ بھی اسی کا نتیجہ ہے۔ شرمناک بات ہے کہ ہائے وے پر شہریوں کی حفاظت کا موثر نظام موجود نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت تک عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی نہیں بنایا جاسکتا جب تک پولیس فورس میں پیشہ ورانہ مہارت نہ ہو۔ موجودہ پولیس کی کمان غیر پیشہ ورانہ افراد کے ہاتھ میں ہے۔
کارباری طبقے کے متعلق اقدامات
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آج ہمارا یہاں اکٹھا ہونے کا مقصد سرمایہ کار اور کاروباری طبقے کے لیے بہترین اقدامات کو یقینی بنانا ہے، پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار سرمایہ کاری پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ کاروباری معاملات میں مختلف مراحل پر مسائل پیدا ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں ہے، کاروباری معاملات عدالتوں میں آتے ہیں تاکہ انہیں حل کیا جا سکے تاہم کاروباری معاملات کا عدالتوں میں لٹک جانا مزید مسائل کو جنم دیتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جن ممالک میں بہترین عدالتی نظام موجود ہوتا ہے وہاں سرمایہ کاری بھی زیادہ آتی ہے، اس لیے اگر ہم سرمایہ کاری میں اضافہ کے خواہشمند ہیں تو بہترین عدالتی نظام وقت کا اہم تقاضا ہے۔
اس موقع پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد قاسم خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمرشل اور اوورسیز پورٹل میں بیرون ملک پاکستانی درخواستیں دائر کر سکیں گے جن پر ہائیکورٹ کا کمرشل و اوورسیز سیل انصاف کی فراہمی یقینی بنائے گا۔