متحدہ عرب امارات کے بعد بحرین نے بھی اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کے لیے معاہدہ کر لیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحرین کے بادشاہ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے ٹیلیفون پر بات کی جس کے انہوں نے ٹویٹ کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدے کا اعلان کیا۔
اس موقع پر امریکہ، بحرین اور اسرائیل نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جس کے مطابق اس تاریخی پیش رفت کا مقصد مشرق وسطیٰ میں امن کو آگے بڑھانا ہے۔
مشترکہ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں معاشروں کے درمیان براہ راست مکالمہ اور تعلقات شروع کرنے اور معیشت کو آگے بڑھانے سے مشرق وسطیٰ میں مثبت تبدیلیوں کا عمل جاری رکھا جا سکے گا، اس معاہدے سے خطے کے امن و استحکام اور خوشحالی میں اضافہ ہو گا۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق اسرائیل نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ان تمام مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ اور مقبوضہ بیت المقدس کے دیگر مقامات پر آنے اور عبادت کرنے کی اجازت دے گا جو امن کے دائرے میں آئیں گے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے بحرین کو 15 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی ہے جسے بحرین نے قبول کر لیا ہے۔
15 ستمبر کو ہونے والی اس تقریب میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور بحرین کے وزیرخارجہ عبدالطیف الزیانی امن معاہدے پر دستخط کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ آج ایک بڑی پیش رفت میں ہمارے دو عظیم دوستوں، اسرائیل اور بحرین نے امن معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے، بحرین گزشتہ 30 روز میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کرنے والا دوسرا ملک ہے۔