ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے جعلی سوشل میڈٰیا اکاؤنٹس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جعلی آئی ڈیز میں اضافہ چیلنج بن گیا ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں ایف آئی اے سائبر ونگ کے ڈائرکٹر نے بتایا کہ گزشتہ سال جعلی آئی ڈیز کی 19 ہزارسے زائد شکایات ملیں۔ ۔
انہوں نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ رواں سال سائبر کرائمز میں 120 فیصد اضافہ ہوا ہے اور 9 ماہ میں 45 ہزار سے زائد شکاتیں آ چکی ہیں۔
سیکیریٹری آئی ٹی نے بتایا کہ سائبر کرائم کے حوالے سے ایف آئی کو روز بدلنے والی ٹیکنالوجی کے ساتھ واستہ پڑتا ہے۔ پاکستان کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے قانونی معاونت کا معاہدہ نہ ہونا بھی بڑی رکاوٹ ہے، وزرات داخلہ سے کہا جائے کہ ایف آئی کو ٹیکنالوجی کے حوالے سے بااختیار بنایا جائے۔
کمیٹی میں چیئرمین پی ٹی اے عامر عظیم باجوہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سوشل میڈیا رولز کابینہ سے نوٹیفائی نہیں ہوئے، اگر یہ رولز نوٹیفائی ہو جائیں تو سوشل میڈیا کمپنیاں پاکستان میں دفاتر کھولنے کی پابند ہوں گی اور انہیں اپنا نمائندہ بھی پاکستان میں نامزد کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا رولز نوٹیفائی ہونے سے سوشل میڈیا سے متعلق بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے۔ سوشل میڈیا کو ہینڈل کرنا پوری دنیا کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے۔ سائبر کرائمز کی تحقیقات میں بہت وقت لگتا ہے، فیک اکاؤنٹ پر پی ٹی اے کو بھی رپورٹ کیا جاسکتا ہے۔
چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ وہ سوشل میڈیا رولز پر مشاورتی رپورٹ کابینہ کمیٹی کو بھجوائیں گے، اس حوالے سے مشاورت مکمل کر لی ہے۔