ایران میں سرکاری طور پر سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی ہے لیکن ملک بھر میں عوام اور سرکاری عہدیدار انہیں استعمال کرتے ہیں۔
حال ہی میں انفارمیشن اینڈ کمیونی کیشن ٹیکنالوجی منسٹری کی ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق ایران کی آدھی سے زیادہ آبادی نے سوشل میڈیا پر اکاؤنٹس بنائے ہوئے ہیں۔
ایرانی حکومت سوشل میڈیا پر ہونے والی سرگرمیوں کے ذریعے نہ صرف عوام کے موڈ کا اندازہ لگاتی ہے بلکہ سیاسی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھتی ہے۔
ڈی ڈبلیو کے مطابق حال ہی میں مشہد سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ نصراللہ پژمانفر نے انٹرنیٹ کے لیے قانونی مسودہ پیش کیا ہے، وہ قدامت پسند حلقوں اور فوج کے زیادہ قریب سمجھے جاتے ہیں اور آرٹیکل 90 کمیشن کے چیئرمین ہیں۔
انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج کو ایران میں انٹرنیٹ سے متعلقہ تمام سرگرمیوں کو اپنے کنٹرول میں لے لینا چاہیے۔
نیویارک میں رہائش پذیر عامر راشدی ایران میں سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل رائٹس پر تحقیق کرتے ہیں، انہوں نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی سیکیورٹی ایجنسیاں گزشتہ 20 برسوں سے انٹرنیٹ پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مجوزہ قانون کو فوج اس مقصد کے لیے استعمال کرے گی۔
راشدی کے مطابق ایسی افواہیں بھی سننے میں آئی ہیں کہ ایران اس حوالے سے چین اور روس سے مدد چاہتا ہے، اگر یہ قانون منظور ہو گیا تو ایران دنیا کا واحد ملک بن جائے گا جہاں انٹرنیٹ کو فوج کنٹرول کر رہی ہو گی۔
ایران میں صدر حسن روحانی، وزیرخارجہ جواد ظریف اور ملک کے روحانی رہنما آیت اللہ خامنائی سمیت تمام اعلیٰ عہدیدار ٹویٹر کا استعمال کرتے ہیں حالانکہ یہ ملک میں بلاک ہے اور صرف وی پی این کے ذریعے اسے کھولا جا سکتا ہے۔
نصراللہ پژمانفر نے اپنے مسودہ قانون میں یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ وی پی این کا استعمال ممنوع قرار دیا جائے۔