سابق وزیراعظم نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس عدالت میں جمع کرا دی گئی ہے جس کے مطابق ان کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں اور انہیں سفر کرنے سے منع کر دیا گیا ہے۔
نواز شریف کی رپورٹ ڈاکٹر ڈیوڈ لارنس اور ڈاکٹر فیاض شوال کی جانب سے تیار گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انہیں رش والی جگہوں پر جانے سے منع کیا ہے کیونکہ ایئرپورٹ، جہاز کے سفر یا رش والے مقام پرجانا ان کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
میڈیکل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کاعلاج لندن میں ہونا بہتر ہے کیونکہ وہاں کے ڈاکٹرز ان کی میڈیکل ہسٹری سے آگاہ ہیں، انہیں کسی عام مریض کی نسبت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔
میڈیکل رپورٹ میں ان کے معالج ڈاکٹر فیاض شوال نے لکھا ہے کہ نواز شریف پہلے سے ہی ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ وہ اب بھی انجائنا کے مرض میں مبتلا ہیں۔ پاکستان جانے سے پہلے ان کی انجیو گرافی ہونا انتہائی ضروری ہے۔
سابق وزیراعظم کی رپورٹ میں مزید لکھا ہے کہ انجیو گرافی میں تاخیر کورونا وبا کی وجہ سے ہوئی جبکہ کورونا وائرس کے دوران نواز شریف کو کسی بھی قسم کے سفر سے منع کیا ہے۔
نواز شریف کی تازہ ترین رپورٹ پر 8 ستمبر کی تاریخ درج ہے۔