پاکستان کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے قیمتی زرمبادلہ خرچ کرنا پڑتا ہے کیونکہ مقامی ذرائع سے پیدا ہونے والی گیس اور تیل ملکی ضروریات کے لیے ناکافی ہے۔
ان حالات میں بلوچستان کے علاقے قلات میں گیس کا بہت بڑا ذخیرہ دریافت ہوا ہے جس سے ملک کی توانائی کی بڑھتی ضروریات پورا کرنے میں مدد ملے گی اور زرمبادلہ پر بھی بوجھ کم ہو گا۔
پنجاب کے وزیر خوراک عبدالعلیم خان نے اپنی ٹویٹ میں بتایا ہے کہ قلات سے ایک ہزار ارب کیوبک فٹ سے بھی زائد گیس کا نیا ذخیرہ دریافت ہوا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ اس دریافت سے پاکستان کے رہائشی اور صنعتی شعبے کے لیے توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
عبدالعلیم خان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ایل این جی کی درآمد پر 15 سے 16 ارب ڈالر کا زرمبادلہ خرچ کرتا ہے، اس دریافت سے ملکی معیشت کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔
بزنس ریکارڈر کی خبر کے مطابق پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ نے دسمبر 2019 میں اس جگہ پہلی دریافت کی تھی جو ریاست کی ملکیت ایک بین الاقوامی ادارہ ہے۔
اس وقت کمپنی نے کہا تھا کہ وہ مزید ایک کنویں کی کھدائی شروع کر رہی ہے جس پر 6 سے 7 ماہ لگ جائیں گے، اس وقت یہ امید بھی ظاہر کی گئی تھی کہ اس علاقے میں مزید ذخائر بھی دریافت ہونے کا امکان ہے۔