افغان دارالحکومت کابل میں ملک کے پہلے نائب صدر امراللہ صالح کے قافلے پر بم حملہ کیا گیا ہے جس میں کم از کم 10 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
امراللہ صالح کا کہنا ہے کہ حملے میں ان کا چہرہ اور ایک ہاتھ معمولی سا جلا ہے لیکن وہ محفوظ رہے ہیں۔
حملے کے دو گھنٹے بعد جاری ہونے والے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ مجھے اور میرے بیٹے عباداللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، پیغام میں انہوں نے سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کے عزم کو دہرایا۔
امراللہ صالح افغان انٹیلی جنس سروس کے سربراہ رہے ہیں اور طالبان کے سخت مخالف سمجھے جاتے ہیں۔ ان پر اس سے قبل بھی کئی قاتلانہ حملے ہوئے ہیں، گزشتہ برس ان کے دفتر پر ہونے والے حملے میں 20 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ٹویٹ کے ذریعے بتایا ہے کہ طالبان اس حملے میں ملوث نہیں ہیں۔
افغان وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صالح کے قافلے پر اس وقت بم حملہ کیا گیا جب وہ اپنے کام پر جا رہے تھے، حملے میں اس علاقے میں کام کرنے والے 10 شہری جاں بحق جبکہ امراللہ صالح کے محافظوں سمیت 15 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
افغان صدر اشرف غنی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد افغان عوام کے امن، جمہوریت اور ملک کے روشن مستقبل پر یقین کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
آنے والے دنوں میں طالبان اور افغان حکام کے درمیان دوحہ میں مذاکرات شروع ہونے والے ہیں جن میں برسوں کی خونریزی کے بعد سیاسی مصالحت کی کوشش کی جائے گی۔