سینیٹ میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق پاکستان میں پانی کی فی کس دستیابی مسلسل نیچے کی طرف جا رہی ہے۔
دستاویز کے مطابق ملک میں 1951 میں پانی کی فی کس دستیابی 5260 کیوبک میٹر سالانہ تھی جس میں مسلسل کمی ہوتی رہی ہے اور اس وقت بڑھتی آبادی کے باعث سالانہ 1000 کیوبک میٹر سے بھی کم ہو گئی ہے، یہ پانی کی قلت والی صورتحال کو ظاہر کرتی ہے
وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ یہ بہت تشویشناک ہے۔ ملک وہی ہے، پانی وہی ہے لیکن آبادی بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے چھوٹے ڈیمز پر توجہ دی تھی اور اب ہماری حکومت بڑے ڈیم بنا رہی ہے۔
علی محمد خان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پانی کو ضائع نہ کریں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ پینے والے پانی کو گاڑیوں کی دھلائی میں استعمال کیا جاتا ہے جس سے پانی کا ضیاع ہو رہا ہے۔
وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا زراعت میں 78 فیصد پانی فلڈ سسٹم کی وجہ سے ضائع ہو رہا ہے۔
انہوں نے تجویز دیتے ہوۓ کہا کہ اگر زمین کو لیزر کر دیا جائے تو پانی کے ضیاع سے بچا جا سکتا ہے جس کی وجہ سے شائد ڈیم بنانے کی بھی ضرورت نہ رہے۔