سینیٹ میں سانحہ موٹر وے پر بحث کے دوران سینیٹر مشاہد اللہ خان نے سی سی پی او لاہور کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اتنے اچھے افسر ہیں تو پھر انٹیلیجنس بیورو نے ان کے خلاف رپورٹ کیوں دی ہے؟ آئی بی اور سی سی پی او میں کوئی ایک غلط ہے اور جو غلط ہے اسے سزا دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر سانحہ موٹر وے پر نہیں ہوا تو پھر رنگ روڈ پر ہوا ہے اور اس کا ذمہ دار سی سی پی او لاہور ہے جس کی تعریفیں کی جا رہی ہیں۔ وزراء اور وزیر اعظم نے بھی ان کی تعریف کی ہے۔
سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ سرکاری ملازم کے لیے کوئی معافی نہیں ہوتی۔ سی سی پی او نے مس کنڈکٹ کیا ہے جس کی سزا ہوتی ہے۔
بھنگ کی تجارت
سینیٹر مشاہد اللہ خان نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ حکومت بھنگ کی تجارت کی بات کر رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ خود حالت بھنگ میں ہے۔ 12 بجے کے بعد پی ٹی آئی کی حکومت چرس، بھنگ اور کوکین کی حالت میں ہوتی ہے۔
اس پرسینیٹر ثمینہ سعید نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ مشاہد اللہ خان صاحب آپ ایوان کا ماحول نہ خراب کریں۔ مشاہد اللہ خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ مجھے لیکچر نہ دیں۔ کیا میں حوروں والی باتیں کروں یا میں جرمن اور جاپان کی سرحد ملانے والی بات کروں تو آپ خوش ہوں گی؟
انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ کو تکلیف ہوتی ہے تو پرائم منسٹر آفس جا کر ان وزراء اور وزیراعظم کا گریبان پکڑیں جنہوں نے یہ بیان دیا ہے۔
سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متعلق انکشافات
مشاہد اللہ خان نے کہا کہ پورے ملک میں ماتم ہے اور حکومت ایک سی سی پی او بچانے کے چکر میں ہے۔ سینیٹر ثمینہ سعید نے مشاہد اللہ خان سے سوال کیا کہ ماڈل ٹاؤن سانحہ کے افسران کو کیا سزا ملی؟
مشاہد اللہ خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 2 برسوں سے پی ٹی آئی کی حکومت ہے، اس عرصے میں حکومت سزا دے دیتی۔ اگر آپ کی حکومت سزا نہیں دے سکتی تو پھر آپ یہاں ہمارے ساتھ اپوزیشن میں آ کر بیٹھ جائیں۔
انہوں نے کہا کہ میں بتانا چاہتا ہوں کہ جس دن ماڈل ٹاؤن کی حقیقت پر مبنی تفتیش ہو گئی اس دن طاہر القادری بھی اس میں شامل نکلے گا اور عمران خان بھی اس میں شریک ثابت ہو گا۔ یہ سب لندن پلان کے تحت ہوا تھا۔
مشاہد اللہ خان نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جنہوں نے کراچی میں 260 لوگوں کو جلایا تھا وہ آپ کے ساتھ حکومت میں بیٹھے ہوئے ہیں اور آپ کو 11 لوگوں کی تکلیف ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ یہاں طوطے اور نمونے بیٹھے ہوئے ہیں اور طوطے ایسی ہی باتیں کرتے ہیں۔ جس پر سینیٹر عتیق شیخ نے احتجاج کیا کہ نمونہ کیوں کہا ہے؟ سینیٹر مشاہد اللہ خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایم کیو ایم سے ہیں اس لیے 260 لوگوں کے جلانے کے ذکر پر تکلیف ہوئی ہے۔
سینیٹر عتیق شیخ نے کہا کہ جو جس کے منہ میں آ جائے گا وہ بک دے گا یہ پارلیمنٹ ہے؟ جس پر مشاہد اللہ خان نے انہیں شٹ اپ کال دے دی۔
سینیٹر عتیق شیخ نے کہا کہ مجھے نمونہ کہہ رہے ہیں جس پر سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ اور کیا کہوں؟ سینیٹر عتیق شیخ نے کہا کہ میری طرف مت آؤ۔ سنیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ اس کو پٹہ ڈالو، یہ 260آدمیوں کا قاتل کھڑا ہے۔
سینیٹر عتیق شیخ نے مشاہد اللہ خان کو دوسروں کے مال پر پلنے والا آدمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں اس کو اس کے گھر تک پہنچا کے آؤں گا۔
سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ جو کچھ کراچی میں ہوا اس کے اثرات آئیں گے یا نہیں؟ 260 لوگوں کو بھتہ کے لیے جلا دیا گیا تھا۔ 12 مئی کو کھلے عام گولیاں برسائی گئی تھیں۔ انہیں ماڈل ٹاؤن کی بڑی فکر ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2 برسوں میں کتنے لوگ بے روزگار ہوئے ہیں؟ لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال تب خراب ہوتی ہے جب لوگوں کو کھانے کے لیے کچھ نہیں ملتا۔