صدر مملکت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج طلب کر لیا ہے جس میں ایف اے ٹی ایف سمیت دیگر اہم بلز پیش ہوں گے۔
صدرمملکت نے آئین کے آرٹیکل 54 کی شق 1 کے تحت مشترکہ اجلاس شام 4 بجے طلب کیا ہے۔
اجلاس میں ایف اے ٹی ایف پر ووٹنگ کا امکان ہے جبکہ صدر اور وزیراعظم کی تنخواہوں اور مراعات کے دو ترمیمی بل بھی پیش کیے جائیں گے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے قبل قومی اسمبلی کام معمول کا اجلاس بھی ہو گا جبکہ وزیراعظم عمران خان نے اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی طلب کر رکھا ہے۔
یاد رہے کہ سینیٹ میں ایف اے ٹی ایف بل منظوری کرانے میں حکومتی بنچوں کو شکست ہوئی تھی جس کے بعد حکومت نے مشترکہ اجلاس میں اس حوالے سے قانون سازی کا عندیہ دیا تھا۔
اس دوران عمران خان اپنے انٹرویوز اور تقاریر میں مسلسل اپوزیشن پر الزام لگاتے آئے ہیں کہ انہوں نے ایف اے ٹی ایف پر قانون سازی میں حکومت کا ساتھ نہ دے کر ملکی مفاد کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔
اپوزیشن کا موقف تھا کہ حکومتی بنچوں سے کئی افراد نے ان کے رہنماؤں کے متعلق نازیبا الفاظ استعمال کیے ہیں، انہیں واپس لیا جائے اور معافی مانگی جائے تو وہ ایف اے ٹی ایف پر قانون سازی کے لیے حکومت کا ساتھ دیں گے۔