وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کی طرف سے پیش کی گئی دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پی آئی اے طیارے کے کراچی میں حادثہ سے شہرت کو دھچکہ لگا ہے۔
دستاویزات کے مطابق حادثہ کے باعث پی آئی اے کے مسافروں میں شدید کمی ہوئی ہے، اس کے حقیقی اثرات کا تعین مزید چند ماہ بعد ہی ہو سکے گا۔
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ چترال سے اسلام آباد اور لاہور سے کراچی پروازوں کے ہلاک شدگان کے ورثاء کو رقوم کی ادائیگی کر دی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق چترال سےاسلام آباد فلائٹ حادثہ کے فی مسافر کو تدفین اخراجات کی مد میں 5 لاکھ ادائیگی کی گئی جبکہ ان کے ورثاء کو 50 لاکھ معاوضہ ادائیگی کی گئی ہے۔
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ لاہور تا کراچی جانیوالی فلائٹ میں ہلاک شدگان کے فی مسافر کی تدفین کیلئے 10 لاکھ ادائیگی کی گئی تھی جبکہ جاں بحق ہونے والے افراد کے ورثا اور 2 بچ جانے والے مسافروں کو 10 لاکھ روپے فی کس ادا کیے گئے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق پی آئی اے کے کراچی حادثہ سے پریمیم کی لاگت میں اضافہ ہو گا جو کہ 5 ملین ڈالرز سے زیادہ ہو گی۔ ہوائی جہاز اور متوفی مسافروں کو معاوضہ کی ادائیگی انشورنس کمپنی کرے گی۔
لاہور تا کراچی جانے والی پرواز کے مسافروں کے ورثاء کو قانونی و دستاویزی کاروائی کے بعد فی مسافر ایک کروڑ روپے معاوضہ ادا کیا جائے گا۔