پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں انسداد دہشتگری ایکٹ 1997 میں تیسری ترمیم کا بل 2020 منظور ہو گیا ہے۔
تحریک انصاف کے رکن فہیم خان نے ترمیمی بل پیش کیا جس کے بعد شق وار منظوری کا عمل شروع ہو گیا۔
بعد ازاں ووٹنگ کرائی گئی جس میں بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن اراکین نے ایجنڈے کی کاپیاں بھی پھاڑ دیں، کاپیاں پھاڑ کر اسپیکر کی طرف اچھال دیں اور زبردست ہنگامہ آرائی کے بعد ایوان سے واک آوٹ کیا۔
اینٹی منی لانڈرنگ دوسرا ترمیمی بل 2020
اینٹی منی لانڈرنگ دوسرا ترمیمی بل 2020 بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کر لیا گیا۔
اجلاس میں بل پیش ہوا تو بلاول بھٹو تقریر کے لیے ایوان میں کھڑے ہوگئے جس پر شاہ محمود قریشی نے اعتراض کیا کہ جس ممبر نے بل ترمیم کے لیے پیش کیا ہے صرف اسے بولنے کی اجازت دینی چاہیے، بلاول بھٹو نے کوئی ترمیم پیش نہیں کی۔
اس دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی اور اسپیکر کے درمیان ایوان چلانے کے حوالے سے مختصر بحث ہوئی۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ رولز 126 کے تحت کسی بھی ترمیم پر بحث کرانا ضروری ہے، اسپیکر نے جواب میں کہا کہ بحث ہو چکی ہے، اب منظوری کا عمل شروع ہے۔
اس پر اپوزیشن نے اسمبلی سے واک آؤٹ کر دیا جبکہ بل کی شق وار منظوری جاری رہی اور اسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔
وقف املاک بل کثرت رائے سے منظور
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اسلام آباد وقف املاک بل کی تحریک کثرت رائے سے منظور کر لی گئی۔
اپوزیشن کی جانب سے تحریک کی مخالفت میں 190 جبکہ حمایت میں 200 ووٹ پڑے۔
اپوزیشن نے شقوں کی منظوری کےدوران دوبارہ گنتی کا مطالبہ بھی کیا۔
رض ربانی نے اعتراض کیا کہ بابراعوان وزیراعظم کے مشیر ہیں، وہ تحریک پیش نہیں کرسکتے۔
اس کے جواب میں وزیرقانون فروغ نسیم نے کہا کہ آئین کے مطابق مشیر اور معاونین خصوصی پارلیمنٹ میں ووٹ نہیں دے سکتے لیکن وہ ایوان میں بل پیش کر سکتے ہیں۔
اس دوران جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے ترامیم پیش کیں جنہیں کثرت رائے سے مسترد کر دیا گیا۔
اس کے علاوہ اجلاس میں سروے اینڈمیپنگ ترمیمی بل 2020 اور اسلام آباد ہائی کورٹ ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔