قومی احتساب بیورو (نیب) نے چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الہی کے خلاف 20 سال سے جاری انکوائری بند کر دی ہے۔
چوہدری برادران کے خلاف یہ انکوائری بینکوں کا نادہندہ ہونے کے متعلق کی جا رہی تھی۔
نیب نے لاہور ہائیکورٹ میں اپنی رپورٹ جمع کرائی ہے جس کے مطابق شواہد نہ ملنے کی وجہ سے یہ انکوائری ختم کر دی گئی ہے۔
نیب لاہور کی اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قرضہ حاصل کرنے کا الزام چوہدری برادران پر لاگو نہیں ہوتا۔
چوہدری برادران کے خلاف 12 اپریل 2000 کو تحقیقات شروع کی گئی تھیں جنہیں 20 برس بعد ختم کر دیا گیا ہے۔
ان کے وکیل ایڈووکیٹ امجد پرویز نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 20 برس میں نیب یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ چوہدری برادران نے کسی بینک سے قرض لیا ہے یا کوئی قرضہ واپس کرنا ہے۔
عدالت نے نیب کی جانب سے رپورٹ جمع کرانے کے بعد ان کی درخواست نمٹا دی ہے۔
یاد رہے کہ چوہدری پرویز الہی پر بطور اسپیکر پنجاب اسمبلی آمدن سے زائد اثاثہ جات کے علاوہ ان کے بطور سابق لوکل منسٹر غیرقانونی تعیناتیوں کے الزامات ابھی تک موجود ہیں۔
نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ان کے خلاف غیرقانونی تعیناتیوں کا ریفرنس چیئرمین نیب کو بھجوا دیا گیا ہے جبکہ آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام میں انکوائری آخری مراحل میں ہے۔
عدالت نے نیب کو چوہدری برادران کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے لیے 4 ہفتوں کی مہلت دے دی ہے۔