سپریم کورٹ میں سندھ کی تحصیل میہڑ میں تہرے قتل کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے پولیس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ملزموں کی گرفتاری کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دے دی ہے۔
جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت درخواست گزار ام رباب چانڈیو نے عدالت کو بتایا کہ 2 فرار ملزمان میں سے ایک کے سر کی قیمت نہیں رکھی گئی، پولیس برائے نام تفتیش کررہی ہے، صرف پیپر ورک کیا جا رہا ہے۔
ڈی آئی جی نعیم شیخ نے عدالت کو بتایا کہ پولیس ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں کررہی ہے جس پر جسٹس فیصل عرب نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ڈھائی سال سے ملزمان کے گرفتار کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں؟
انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ سماعت سے پہلے ملزمان گرفتار نہ ہوئے تو حکم میں لکھ دیں گے کہ آپ اس عہدے کے قابل نہیں۔
جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ آپ عدالت میں کیس کی فائل کیوں نہ لائے، کیس کی ضمنی بھی ساتھ نہیں ہے، ڈی آئی جی نے کہا کہ کیس کی فائل متعلقہ تفتیشی کے پاس ہے۔
دوران سماعت ایس ایس پی کے بات کرنے پر عدالت نے ڈانٹ پلا دی اور کہا کہ جب آپ کے سینئر موجود ہیں تو آپ کیوں بات کررہے ہیں؟ آپ اسلام آباد تفریح کرنے آئے ہیں؟
بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت ایک ہفتے تک ملتوی کر دی۔