قومی احتساب بیورو (نیب) نے ہوٹل کو شراب کا لائسنس جاری کرنے کے کیس میں سابق ڈائرکٹر جنرل پنجاب اکرام اشرف گوندل کو گرفتار کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ان پر غیرقانونی طور پر شراب کا لائسنس جاری کرنے کا الزام ہے، ملزم کو کل احتساب عدالت میں جسمانی ریمانڈ کے لیے پیش کیا جائے گا۔
عثمان بزدار نے نیب کے 17 سوالوں کے جواب دے دیے، الزامات کی تردید
عثمان بزدار کی نیب میں پیشی کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی
یہ گرفتاری اسی کیس کی ایک کڑی ہے جس میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو نیب نے طلب کیا تھا اور ان سے سوالات پوچھے گئے تھے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے نیب کی جانب سے پوچھے گئے 17 سوالات کے جواب میں کہا تھا کہ شراب لائسنس کے معاملے پر انہوں نے کوئی غیرقانونی کام نہیں کیا۔
4 صفحات پر مبنی اپنے جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ شراب لائسنس کے اجرا میں انہوں نے کوئی کردار ادا نہیں کیا، اس کا اختیار ڈی جی ایکسائز کے پاس ہے۔
انہوں نے نیب کو بتایا تھا کہ ڈی جی ایکسائز اکرم اشرف گوندل کی لائسنس اجرا کی پہلی سمری اختیار نہ ہونے پر واپس بھجوا دی تھی، انہوں نے لائسنس جاری کر کے دوبارہ سمری سیکریٹریٹ بھجوائی تو پرنسپل سیکریٹری نے سمری متعلقہ فورم نہ ہونے پر دوبارہ واپس بھجوا دی۔
عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ ایکسائز کے وزیر نے متعلقہ ہوٹل کو دیا گیا شراب کا لائسنس معطل کر دیا، 2019 میں لاہور ہائیکورٹ نے متعلقہ ہوٹل کا لائسنس بحال کرنے کا حکم دیا، ہائیکورٹ کے سنگل بنچ فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل ابھی زیر التوا ہے۔ اور نجی ہوٹل کے لائسنس پر آج تک ایک بھی شراب کی بوتل فروخت نہیں ہوئی۔
عثمان بزدار نے اپنے جواب میں بتایا تھا کہ اب تک شراب کے 11 لائسنس میں سے 9 ڈی جی ایکسائز نے جاری کیے، 2000 اور 2001 میں گورنر نے لائسنس جاری کیے تھے۔