پاکستان بار کونسل کی جانب سے منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی جماعتیں اور میڈیا احتساب نہیں انتقام کی چکی سے گزر رہے ہیں جس کا نقصان ملک کو پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹھنڈے دل سے انتقام اور احتساب کے معاملے کو سوچنا ہوگا، شفاف احتساب ہو تو آدھی کابینہ بچ نہیں سکتی، احتساب انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہوا تو ملک قائد کا پاکستان بنے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ بلاول بھٹو کی قربانیوں کے حوالے سے کی گئی باتوں پر کوئی دو رائے نہیں، مختلف ادوار میں بلوچستان اور پنجاب کے بھائیوں نے بہت قربانیاں دی ہیں، ملک کے اندر انصاف کے حوالے سے نشیب و فراز آ تے رہے۔
انہوں نے کہا کہ مولوی تمیز الدین کیس میں جج نے اختلافی نوٹ لکھا ، ایک جج صاحب نے ذوالفقار بھٹو کا فیصلہ دباؤ میں کرنے کا اعتراف کیا، جج ارشد ملک کا سارا قصہ آپ کے سامنے ہے، مختلف ادوار میں آمروں نے ترامیم کرا کے عدلیہ کو کمزور کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کا احترام ہے لیکن چند لوگوں نے منصفوں کی شکل میں آمروں کو آئین میں تبدیلی کا اختیار دے دیا، آج ماضی سے سبق حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہے، جسٹس منیر نے بھی نظریہ ضرورت کو غلطی تسلیم کیا۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ میڈیا پر جتنی بندش ہے اسکی نظیر نہیں ملتی، میڈیا کے دوستوں نے سچ کیلئے قربانیاں دی ہیں، نواز شریف جان کی پرواہ کیے بغیر نکلے اور عدلیہ بحال ہوئی، ارشد ملک جیسی کالی بھیڑیں بھی موجود ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے کیس کو سیاسی نہیں کرنا چاہیے۔ عدلیہ جب بھی سیاسی ہوئی، نقصان ملک کو پہنچا ۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ گوالمنڈی میں نیک لوگ رہتے ہیں جنہوں پاکستان کیلئے خون کی دریا عبور کیے، وزیراعظم کو یہ احساس نہیں کہ پاکستان کا ہر چپہ مقدس ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی عروج پر ہے، پاکستان کا کھویا ہوا مقام واپس دلانا ہے، چھوٹے صوبوں کی حقیقی شکایات کا حل نکالنا ہے، چھوٹے صوبوں کے مسائل حل کرنے سے ہی محبت اور یگانگت پیدا ہو گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کالے کوٹوں والے بتائیں کس طرح منصف چنا جائے جو درست منصفی کرے، احتساب پر زیادہ بات اس لیے نہیں کرنا چاہتا کیونکہ ہم خود انتقام کی چکی سے گزر رہے ہیں، حکومت وقت کا لہجہ کل سب نے سن لیا ہے، منصفانہ احتساب ہو تو حکومت کے آدھے لوگ بچ نہیں سکتے، پارلیمان میں کھڑے ہوکر وہ باتیں کی گئیں جن کا کوئی تصور نہیں کرسکتا۔
قائد حزب اختلاف نے کہا کہ یورپ میں کئی سو سال مختلف ممالک ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان رہے، آج وہاں ایک مشترکہ تجارتی یورپین یونین قائم ہے، چھوٹے صوبوں کے حقوق سلب کرکے ایک صوبے کو پاکستان سمجھنا غلط فہمی ہے۔
بلاول بھٹو کا خطاب
پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ وکلا نے آج تمام سیاسی لیڈرشپ کو ایک جگہ پر اکٹھا کر دیا، ہماری جماعت کو شہدا کی جماعت کہا جاتا ہے، میرے خاندان کو ایک ایک کر کے شہید کیا گیا، میرے نانا کو پھانسی چڑھایا گیا اور ماموں کو کراچی کی سڑکوں پر شہید کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ میرے ایک ماموں کو زہر دے کر شہید کیا گیا، میری والدہ کو راولپنڈی میں بم دھماکے میں شہید کیا گیا، ذوالفقار علی بھٹو کو کافر اور غدار کہنے والے آج شہید ماننے کو تیار ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہم ان شہادتوں پر فخر کرتے ہیں، میں اپنی والدہ کے ساتھ جدوجہد کرنے والوں کو سلام کرتا ہوں، یہاں وہ لوگ بھی موجود ہیں جو کہتے تھے عورت کی حکمرانی جائز نہیں، ہم پر حملے ہوتے ہیں اور میڈیا پر ہماری اور ہمارے شہیدوں کی کردار کشی کی جاتی ہے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ تمام مشکلات کے باوجود ہم اپنے موقف پر قائم ہیں، محنت اور قربانیاں پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے دی ہیں اور آج کاغذوں پر ہی سہی لیکن ان کے حقوق موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ میں ایک عورت کی بچوں کے سامنے زیادتی کی جاتی ہے، ریاست کا یہ حال ہے کہ ملزم کے بجائے متاثرہ خاتون پر سوال اٹھایا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سیلاب کی وجہ سے فصل تباہ ہو چکی ہے، سوات، مالاکنڈ ڈویڑن اور دیگر علاقوں میں سیلاب متاثرین موجود ہیں، میڈیا میں ایسے لوگوں کے لیے آواز بلند کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
اے پی سی کا اعلامیہ
اے پی سی کا اعلامیہ پاکستان بار کونسل کے ممبر اختر حسین نے پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا کہ ججز کی تقرری، شہریوں کی آزادی، احتساب اور ملک میں اعلیٰ عدلیہ کی تقرری کا طریقہ کار غیر تسلی بخش ہے، جوڈیشل کمیشن کا ادارہ ججز کا کنسورشیم ہے، انیسویں آئینی ترمیم ختم کی جائے۔
اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ ملک میں موجود انصاف کا نظام غیر موثر ہوچکا ہے، اسے پولیٹکل انجینئرنگ کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے، احتساب کا نیا نظام بنایا جائے، ملک کے تمام سرکاری اداروں کیلئے یکسساں احتساب کا نظام لایا جائے۔
اے پی سی کے اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملک میں شہری آزادیوں اور صحافیوں کی حفاظت کیلئے فوری قانون سازی کی جائے، تمام لاپتہ افراد کو رہا کیا جائے یا عدالتوں میں پیش کیا جائے، اجلاس میں فوج کے سیاست میں بڑھتے کردار پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔