حکومت پاکستان کو ریکوڈک کیس میں ایک بڑی کامیابی مل گئی ہے، عالمی بینک کے ثالثی فورم اکسیڈ نے 6 ارب ڈالرز جرمانے پر مستقل حکم امتناع جاری کر دیا ہے۔
انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹ (اکسڈ ) نے آسٹریلوی اور چلی کی کمپنیوں کو جرمانے کی ادائیگی پر عمل درآمد روکنے کا مستقل حکم امتناع پاکستان کی درخواست پر جاری کیا ہے۔
اٹارنی جنرل آفس کے مطابق اپریل 2020 میں حکم امتناع مستقل کرنے کی سماعت ویڈیولنک پر ہوئی۔ آفس کے مطابق 16ستمبرکو اکیسڈنے پاکستان کے حق میں حکم امتناع کو مستقل کرنے کاحکم دے دیا۔
اکسڈ نے جولائی 2019 میں آسٹریلوی کمپنی بارک گولڈ اور چلی کی کمپنی اینٹو فگاسٹا کی مشترکہ ٹیتھیان کاپر کمپنی کو بلوچستان میں ریکوڈک کے علاقے میں سونے اور تانبے کے ذخائر کی مائننگ لیز منسوخ کرنے پر پاکستان پر 6 ارب ڈالر جرمانہ عائد کیا تھا۔
پاکستان نے اس فیصلے کے خلاف 2019 میں اپیل کی تھی جس پر عبوری حکم امتناع مل گیا تھا جسے اب مستقل کر دیا گیا ہے۔
اٹارنی جنرل آفس کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کی قانونی ٹیم کی بڑی کامیابی ہے، ریکوڈک معاملے پر حتمی سماعت مئی 2021 میں ہوگی۔