آج ہونے والے سینیٹ کے اجلاس میں ایک مرتبہ پھر مشاہد اللہ خان اور عتیق شیخ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جبکہ چیئرمین سینیٹ اور قائد حزب اختلاف دونوں کے مابین بیچ بچاؤ کی کوشش کرتے رہے۔
وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر مشاہد مشاہداللہ خان اور سینیٹر عتیق شیخ میں شدید جھڑپ ہوئی اور نازیبا الفاظ کا استعمال کیا گیا۔
سینیٹ اجلاس: مشاہداللہ خان اور عتیق شیخ میں جھڑپ، بھنگ، چرس کا تذکرہ
سینیٹر مشاہد اللہ نے کہا کہ عتیق شیخ کی پارٹی نے مجھے دو بار قتل کرنے کی کوشش کی۔۔ تم لوگ 260 آدمیوں کے قاتل ہو، جس پر سینیٹر عتیق شیخ نے کہا کہ یہ شخص ذاتیات پر آ رہا ہے۔۔
سینیٹر مشاہد اللہ نے کہا کہ یں نے گزشتہ اجلاس میں انہوں نے سینیٹر عتیق شیخ کو مخاطب کر کے کچھ نہیں کہا تھا۔۔
معاملہ بڑھنے پر سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق کھڑے ہوگئے اور کہا کہ سینیٹ کو رولز کے تحت چلایا جانا چاہیے، ایوان کا ماحول خراب ہورہا ہے، اگر کوئی سینیٹر اپنا نکتہ پیش کر رہا ہے تو اسے دوسرے سینیٹر کو تحمل کے ساتھ سننا چاہیے اور اپنی باری پر بات کرنی چاہیے۔
اس موقع پر مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ اس طرح سے ایوان چلانا اچھی بات نہیں یے، ہمیں ایک دوسرے کے کردار پر انگلی نہیں اٹھانی چاہیے۔
بیرسٹر سیف نے کہا کہ کچھ لوگوں کا زبان پر اور کچھ کا بلڈ پریشر پر کنٹرول نہیں، یہ مشاہد اللہ خان اور میاں عتیق کی نہیں بلکہ پورے ایوان کی بے عزتی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن ارکان کو ایک دوسرے پر سیاسی تنقید کرنی چاہیے لیکن ذاتی حملے نہیں کرنے چاہئیں۔
چیئرمین سینیٹ بھی دونوں اراکین کو مسلسل خاموش کراتے رہے، انہوں نے کہا کہ ایوان کا ماحول خراب نہیں ہونا چاہیے۔
بعد ازاں چیئرمین سینیٹ نے دونوں کے غیر پارلیمانی الفاظ حذف کرا دیے اور اجلاس کی کارروائی جاری رہی۔