سندھ کے وزیرتعلیم سعید غنی نے اعلان کیا ہے کہ صوبائی حکومت نے 21 ستمبر سے شروع ہونے والی آٹھویں تک کی کلاسز شروع کرنے کا مرحلہ موخر کر دیا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چھٹی سے آٹھویں کی کلاسز، جو 21 ستمبر سے شروع ہو رہی تھیں، انہیں موخر کر دیا گیا ہے۔
لگ رہا ہے کہ اسکولوں کو بند کرنا پڑے گا، سعید غنی
ان کا کہنا تھا کہ 28 ستمبر کو صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد اس حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور دیگر عملے کے 18 ہزار کورونا ٹیسٹ کرائے گئے ہیں جن میں 89 کے نتائج مثبت آئے ہیں جس کی وجہ سے کلاسز موخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس کے قبل انہوں نے بتایا تھا کہ کورونا کے حوالے سے جاری کردہ ایس او پیز پر اسکول عمل نہیں کر رہے، ایسا لگ رہا ہے کہ اسکول بند کرنا پڑیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ کے اسکولوں اور کالجوں میں 13 ہزار طلبہ کے ٹیسٹ ہو چکے ہیں جن میں 88 طلبہ کا رزلٹ مثبت آیا ہے، بچوں کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور معاملات درست سمت میں نہ چلتے محسوس ہوئے تو اسکول بند کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ آج بھی اسکولوں کا دورہ کیا تو بچوں نے ماسک نہیں پہنے ہوئے تھے، سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں ایس او پیز کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔