• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, اپریل 19, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

ملک میں لاقانونیت، لگتا ہے ریاست کا کہیں وجود نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ

by sohail
ستمبر 19, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ ملک میں مکمل طور پر لاقانونیت ہے ایسا لگتا ہے ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں، جب معاملہ وزیراعظم کے نوٹس میں لایا جاتا ہے تو چیزیں ٹھیک ہو جاتی ہیں۔

راول ڈیم کنارے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) عامر علی احمد عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عامر علی احمد سے مخاطب ہو کر استفسار کیا کہ ماسٹر پلانرز میں زون تھری اور فور سے متعلق کیا منصوبہ بنایا گیا تھا؟ چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ زون فور کو تو ماسٹر پلان میں مکمل طور پر گرین ایریا رکھا گیا تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور دیگر ادارے ریئل اسٹیٹ کاروبار میں کیوں ملوث ہیں؟ اسلام آباد کا جو بھی ایشو اٹھائیں اشرافیہ کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی نظر آتی ہے۔

انہوں نے استفسار کیا کہ کیا آپ کا کوئی اہلکار نیول ہیڈ آفس میں چھاپا مار سکتا ہے؟ ایف آئی اے اگر خود ریئل اسٹیٹ کاروبار کرے گا تو وہ اس کام کو کیسے روک سکے گا؟ مفادات کا ٹکراؤ ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے لیکن آپ قانون پر عملدرآمد کرانے کے لیے متعلقہ اتھارٹی ہیں۔

چیئرمین سی ڈی اے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کارروائیاں کر رہے ہیں اور ہاؤسنگ سوسائٹیز سے متعلق بھی بریفنگ لی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس کیس میں آپ قانون پر عملدرآمد نہیں کرا پا رہے ہیں۔ کیا آپ کوئی ایکشن لے سکتے ہیں؟ اس عدالت کو سچ بتائیں۔ چیئرمین سی ڈی اے نے اعتراف کیا کہ یہ مشکل ہے لیکن ہم اپنی کوشش کریں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ نے ڈسٹرکٹ کورٹس کی حالت دیکھی ہے ؟ وہاں کوئی انسان نہیں جا سکتا۔ عام آدمی وہاں جاتے ہیں اس لیے ڈسٹرکٹ کورٹس کا یہ حال ہے لیکن ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا اس لیے وہ وہاں نہیں جاتے۔

چیئرمین سی ڈی اے نے موقف اختیار کیا کہ اسلام آباد میں شاملات پر قبضہ کرنا بہت مشکل کام ہے لیکن جب تک ریونیو اور پولیس دونوں شامل نہ ہوں قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے کبھی ان اقدامات کا کسی افسر کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے ؟ ریونیو افسر یا ایس ایچ او متعلقہ لوگ ہوتے ہیں کیا آپ نے ان کے خلاف کوئی ایکشن لیا ؟ کتنے لوگوں کو نوکری سے نکالا گیا ہے؟

چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ ہم نے نوکری سے کسی کو نہیں نکالا لیکن معطل کیا ہے اور جب تک پولیس افسر ملوث نہ ہو ریونیو افسر کچھ نہیں کر سکتا لیکن جب پولیس کا افسر وردی میں کھڑا ہوتا ہے تو پھر پریشر پڑتا ہے۔

Tags: اسلام آباد ہائیکورٹچیئرمین سی ڈی اےچیف جسٹس اطہر من اللہ
sohail

sohail

Next Post

مسلم لیگ ن نے اے پی سی میں شرکت کے لیے وفد کا اعلان کر دیا

نوازشریف نے بلاول بھٹو کی اے پی سی میں شرکت کی دعوت قبول کر لی

ملک میں ایس او پیز پر عمل نہ کرنے والے 22 تعلیمی ادارے بند

اسلام آباد میں زمینوں کے قبضے کا معاملہ، عدالت نے شہزاد اکبر کو طلب کر لیا

جن لوگوں نے ملک کو لوٹا، ان کی تحریک کا حصہ نہیں بن سکتے، سراج الحق

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In