چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ ملک میں مکمل طور پر لاقانونیت ہے ایسا لگتا ہے ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں، جب معاملہ وزیراعظم کے نوٹس میں لایا جاتا ہے تو چیزیں ٹھیک ہو جاتی ہیں۔
راول ڈیم کنارے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) عامر علی احمد عدالت میں پیش ہوئے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عامر علی احمد سے مخاطب ہو کر استفسار کیا کہ ماسٹر پلانرز میں زون تھری اور فور سے متعلق کیا منصوبہ بنایا گیا تھا؟ چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ زون فور کو تو ماسٹر پلان میں مکمل طور پر گرین ایریا رکھا گیا تھا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور دیگر ادارے ریئل اسٹیٹ کاروبار میں کیوں ملوث ہیں؟ اسلام آباد کا جو بھی ایشو اٹھائیں اشرافیہ کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی نظر آتی ہے۔
انہوں نے استفسار کیا کہ کیا آپ کا کوئی اہلکار نیول ہیڈ آفس میں چھاپا مار سکتا ہے؟ ایف آئی اے اگر خود ریئل اسٹیٹ کاروبار کرے گا تو وہ اس کام کو کیسے روک سکے گا؟ مفادات کا ٹکراؤ ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے لیکن آپ قانون پر عملدرآمد کرانے کے لیے متعلقہ اتھارٹی ہیں۔
چیئرمین سی ڈی اے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کارروائیاں کر رہے ہیں اور ہاؤسنگ سوسائٹیز سے متعلق بھی بریفنگ لی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اس کیس میں آپ قانون پر عملدرآمد نہیں کرا پا رہے ہیں۔ کیا آپ کوئی ایکشن لے سکتے ہیں؟ اس عدالت کو سچ بتائیں۔ چیئرمین سی ڈی اے نے اعتراف کیا کہ یہ مشکل ہے لیکن ہم اپنی کوشش کریں گے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ نے ڈسٹرکٹ کورٹس کی حالت دیکھی ہے ؟ وہاں کوئی انسان نہیں جا سکتا۔ عام آدمی وہاں جاتے ہیں اس لیے ڈسٹرکٹ کورٹس کا یہ حال ہے لیکن ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا اس لیے وہ وہاں نہیں جاتے۔
چیئرمین سی ڈی اے نے موقف اختیار کیا کہ اسلام آباد میں شاملات پر قبضہ کرنا بہت مشکل کام ہے لیکن جب تک ریونیو اور پولیس دونوں شامل نہ ہوں قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے کبھی ان اقدامات کا کسی افسر کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے ؟ ریونیو افسر یا ایس ایچ او متعلقہ لوگ ہوتے ہیں کیا آپ نے ان کے خلاف کوئی ایکشن لیا ؟ کتنے لوگوں کو نوکری سے نکالا گیا ہے؟
چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ ہم نے نوکری سے کسی کو نہیں نکالا لیکن معطل کیا ہے اور جب تک پولیس افسر ملوث نہ ہو ریونیو افسر کچھ نہیں کر سکتا لیکن جب پولیس کا افسر وردی میں کھڑا ہوتا ہے تو پھر پریشر پڑتا ہے۔