بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان کا کہنا ہے کہ نوازشریف کو بلاول نے کل جماعتی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ہے جو انہوں نے قبول کر لی ہے۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر کے مطابق نوازشریف ویڈیو لنک کے ذریعے اے پی سی میں شریک ہوں گے۔
مسلم لیگ ن نے اے پی سی میں شرکت کے لیے وفد کا اعلان کر دیا
بلاول بھٹو زرداری نے نواز شریف کی صحت دریافت کی اور ان کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان سیاسی صورتحال اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
شہبازگل کا ردعمل
وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی امور شہباز گل نے کہا ہے کہ نواز شریف کا اے پی سی سے خطاب نشر ہوا تو پیمرا اور دیگر قانونی آپشن استعمال ہوں گے۔
اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کہا ہے کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک مفرور مجرم سیاسی سرگرمیاں کرے اور بھاشن دے۔
ان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں بول سکتا، یہ لوگ بیماری پر بھی غلط بیانی کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ 20 ستمبر کو ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں شرکت کے لیے مسلم لیگ ن نے وفد کا اعلان کر دیا ہے جس میں شہباز شریف کے ساتھ ساتھ مریم نواز بھی شریک ہوں گی۔
اے پی سی کا فیصلہ اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی نے کیا تھا، گزشتہ روز سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ کانفرنس میں اسلام آباد کا گھیراؤ کرنے پر بات ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ 3 ماہ میں اسلام آباد کے گھیراؤ سمیت دیگر آپشن استعمال کیے جائیں گے۔