مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے سابقہ ادوار میں صدر اور وزرائے اعظم کو دی گئی مراعات کا سرکاری ریکارڈ وزیراعظم عمران خان کو پیش کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ریکار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سابقہ ادوار میں صدر اور وزرائے اعظم نے شاہانہ طرز زندگی کے لیے سرکاری خزانے کا بے دریغ استعمال کیا۔
ذرائع کے مطابق ایک صدر مملکت نے اپنی عزیزہ کا گھر صدر ہاؤس ڈکلیئر کر دیا تھا جبکہ لاہور اور آبائی علاقوں میں کیمپ آفس قائم کر کے انہیں بھی صدر ہاؤس قرار دے دیا گیا۔
سرکاری ریکارڈ سے یہ بات سامنے آئی کہ دیہی سندھ سے تعلق رکھنے والے سابق صدر نے دو صدر ہاؤس ڈکلیئر کیے جن میں ایک لاڑکانہ اور دوسرا رتوڈیرو میں تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک وزیراعظم نے ملتان اور لاہور سمیت 5 مقامات کو وزیراعظم ہاؤس ڈکلئیر کیا۔
اسی طرح ایک سابق وزیراعلیٰ نے لاہور میں 7 مخلتف کیمپ آفسز کو وزیراعلی آفس ظاہر کیا جبکہ ایک سابق وزیراعظم نے سرکاری خزانے سے 83 کروڑ روہے صرف گھر کی دیوار پر خرچ کر دیے۔
مراعات کے خاتمے کے لیے قانون سازی
ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے پرائم منسٹر اور صدر پاکستان کی مراعات کم کرنے کا بل لانے کی منظوری دے دی ہے اور ڈاکٹر بابر اعوان کو قانون پارلیمنٹ سے منظور کرانے کی ہدایت کر دی ہے۔
بابر اعوان کا کہنا ہے کہ نئی قانون سازی کے بعد کیمپ آفسز ڈیکلیئر کرنے کی شق کا خاتمہ ہوگا، صدر اور وزیراعظم صرف ایک سرکاری رہائش گاہ رکھ سکیں گے۔